ایکس آر پی کی قیمت حال ہی میں تقریباً پندرہ ماہ کی کم ترین سطح پر گر گئی تھی اور اب یہ اہم سنگ میل ایک ڈالر کے قریب پہنچ چکی ہے۔ مارکیٹ کے ماہرین کے مطابق بڑے سرمایہ کاروں، جنہیں “وہیلز” کہا جاتا ہے، نے 1.6 ارب سے زائد ایکس آر پی ٹوکنز خریدے ہیں جن کی مجموعی مالیت دو ارب 20 کروڑ ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے۔ اس بڑے پیمانے پر خریداری نے ایکس آر پی کی قیمت میں ممکنہ بحالی کے آثار دکھائے ہیں۔
ایکس آر پی ایک معروف کرپٹو کرنسی ہے جو ریپل کمپنی کے نیٹ ورک پر چلتی ہے اور اسے اکثر بینکوں اور مالیاتی اداروں میں تیز اور کم لاگت بین الاقوامی مالیاتی ٹرانزیکشنز کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ تاہم، حالیہ دنوں میں اس کی قیمت میں نمایاں کمی نے سرمایہ کاروں میں غیر یقینی صورتحال پیدا کر دی ہے۔ طویل مدتی سرمایہ کار ایکس آر پی کو فروخت کرنے لگے ہیں، جس سے مارکیٹ میں دباؤ بڑھا ہے۔
کریپٹو کرنسی کے مشتقاتی ڈیٹا سے ظاہر ہوتا ہے کہ مارکیٹ میں بیئرش رجحان غالب ہے اور اگر ایکس آر پی کی قیمت اہم حمایت کی سطح سے نیچے گرتی ہے تو لیکویڈیشن کا خطرہ بڑھ جائے گا۔ اس کے باوجود، بڑے “وہیل” سرمایہ کاروں کی خریداری کی سرگرمی قیمت کو دوبارہ اوپر لے جانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے، جس سے قیمت دو ڈالر تک پہنچنے کا امکان موجود ہے۔
کرپٹو کرنسی مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ معمول کی بات ہے اور ایکس آر پی کی قیمت پر بھی مختلف عالمی مالیاتی عوامل اثر انداز ہوتے ہیں۔ سرمایہ کاروں کے لیے ضروری ہے کہ وہ محتاط رہیں اور مارکیٹ کی صورتحال کو غور سے دیکھیں تاکہ بہتر فیصلہ کر سکیں۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance