کرپٹو کرنسی ایکس آر پی نے حالیہ دنوں میں شدید قیمت میں کمی کا سامنا کیا ہے، جس کی بنیاد سرمایہ کاروں میں پھیلنے والے خوف اور مارکیٹ کی غیر یقینی صورتحال ہے۔ پچھلے چند ہفتوں کے دوران ایکس آر پی کی قیمت اپنے بلند ترین مقام سے تقریباً 60 فیصد گر چکی ہے، جس کی وجہ سے طویل مدتی سرمایہ کار بھی اپنی پوزیشنز بیچنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ اس دوران، سرمایہ کاروں کی جانب سے بڑے پیمانے پر خوف فروخت نے مارکیٹ کو مزید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔
ماہرین اور تجزیہ کاروں کے مطابق، اگرچہ حالیہ عرصے میں ریگولیٹری وضاحتوں، ایکسچینج ٹریڈڈ فنڈز (ETF) کی منظوریوں، اور بڑی کمپنیوں کی جانب سے اس کرپٹو کرنسی کو اپنانے جیسے مثبت اشارے سامنے آئے ہیں، اس کے باوجود ایکس آر پی کی قیمت تقریباً 1.41 امریکی ڈالر کے قریب کمزور رہی ہے۔ یہ صورتحال مستقبل کے حوالے سے غیر یقینی پن کو بڑھا رہی ہے اور سرمایہ کاروں کی محتاط رویے کی عکاسی کرتی ہے۔
ایکس آر پی، جو رپل لیبز کی جانب سے جاری کی گئی ایک معروف کرپٹو کرنسی ہے، بین الاقوامی مالیاتی لین دین کو تیز اور کم لاگت بنانے کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ گزشتہ چند سالوں میں اس نے کریپٹو مارکیٹ میں اپنی اہمیت بنائی ہے، تاہم، اس کی قیمت میں اتار چڑھاؤ سرمایہ کاروں کے لیے چیلنج ثابت ہوا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ قیمت میں کمی ایک ممکنہ “کپیٹولیشن” یعنی مکمل ہار ماننے کے مرحلے کا اشارہ ہو سکتی ہے، جہاں سرمایہ کار خوف کے باعث اپنی سرمایہ کاری ختم کر دیتے ہیں۔ تاہم، مارکیٹ کی کارکردگی میں مسلسل کمی اور سرمایہ کاروں کی محتاط رویہ آنے والے دنوں میں قیمتوں کی مزید اتار چڑھاؤ کی پیش گوئی کرتے ہیں۔
کرپٹو کرنسی کی دنیا میں عمومی طور پر قیمتوں کی اتار چڑھاؤ ایک معمول کی بات ہے، اور ایکس آر پی جیسے بڑے پلیئر کی قیمت میں اتنی بڑی کمی مارکیٹ کی مجموعی صحت اور سرمایہ کاروں کے اعتماد پر گہرے اثرات ڈال سکتی ہے۔ آئندہ کچھ عرصے میں مارکیٹ کی سمت کا انحصار عالمی مالیاتی حالات اور کرپٹو ریگولیشنز پر ہوگا۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance