مصنوعی ذہانت کے مستقبل پر ہونے والے ایک مباحثے میں معروف ٹرانس ہیومنسٹ اور مستقبل بینی کے ماہرین کے درمیان گہری اختلافات سامنے آئے۔ ان ماہرین نے اس بات پر بحث کی کہ آیا عمومی مصنوعی ذہانت (AGI) کو محفوظ طریقے سے تیار کیا جا سکتا ہے یا یہ انسان کی بقا کے لیے ایک سنگین خطرہ بن جائے گی۔
عام طور پر مصنوعی ذہانت سے مراد ایسی ٹیکنالوجی ہے جو انسانی ذہانت کی نقل کر سکے اور خود سے سیکھنے اور فیصلہ سازی کی صلاحیت رکھتی ہو۔ عمومی مصنوعی ذہانت کا تصور ایک ایسی مشین کا ہے جو انسان کی طرح سوچ سکتی ہے، مسائل حل کر سکتی ہے اور پیچیدہ کام انجام دے سکتی ہے۔ اس کے ممکنہ فوائد میں معاشرتی ترقی، بیماریوں کا علاج، اور روزمرہ زندگی کو آسان بنانا شامل ہے۔ تاہم، ماہرین کا خدشہ ہے کہ اگر یہ ٹیکنالوجی قابو سے باہر ہو گئی تو یہ انسانیت کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔
مباحثے میں کچھ ماہرین نے یہ دلیل دی کہ مناسب ضوابط اور حفاظتی اقدامات کے ذریعے AGI کو محفوظ بنایا جا سکتا ہے تاکہ یہ انسانوں کے مفاد میں کام کرے۔ دوسری جانب، کچھ نے کہا کہ چونکہ AGI کی طاقت اور صلاحیت بہت زیادہ ہو گی، اس لیے اس کا غلط استعمال یا خود مختار فیصلے انسانوں کے لیے تباہ کن ہو سکتے ہیں۔
یہ بحث عالمی سطح پر جاری ہے کیونکہ مختلف تحقیقاتی ادارے اور ٹیکنالوجی کمپنیاں AGI کی ترقی میں تیزی لا رہی ہیں۔ اس تناظر میں، ماہرین کا کہنا ہے کہ ضروری ہے کہ اس ٹیکنالوجی کی ترقی کے ساتھ ساتھ اس کے اخلاقی اور حفاظتی پہلوؤں پر بھی خصوصی توجہ دی جائے تاکہ مستقبل میں کسی بھی قسم کے غیر متوقع نتائج سے بچا جا سکے۔
آنے والے وقت میں مصنوعی ذہانت کے استعمال اور اس کی نگرانی کے لیے عالمی معیارات اور قوانین مرتب کرنے کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے تاکہ یہ ٹیکنالوجی انسانیت کی خدمت کرے، نہ کہ اس کے خاتمے کا سبب بنے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: decrypt