وائٹ ہاؤس کا موقف: ‘میمز جاری رہیں گے’ خواتین کی گرفتاری کی تصویر میں ترمیم کے بعد

زبان کا انتخاب

وائٹ ہاؤس کو سوشل میڈیا پر ایک متنازع تصویر شیئر کرنے پر تنقید کا سامنا ہے، جس میں ایک خاتون کی گرفتاری کی تصویر میں تبدیلی کی گئی تھی۔ یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب حکومت مصنوعی یا ترمیم شدہ میڈیا پر سخت پابندیاں عائد کرنے کی پالیسی پر زور دے رہی ہے۔ اس تصویر کو ایک معروف پلیٹ فارم پر شیئر کیا گیا جہاں صارفین نے اس ترمیم پر سوالات اٹھائے۔
میمز، جو عام طور پر طنزیہ یا تفریحی تصاویر اور ویڈیوز ہوتے ہیں، سوشل میڈیا پر بہت مقبول ہیں اور خبروں، سیاست، اور روزمرہ کے موضوعات پر صارفین کے ردعمل کا اظہار کرتے ہیں۔ لیکن جب سرکاری ادارے ایسی تصاویر میں ترمیم کرتے ہیں، تو یہ شفافیت اور معلومات کی درستگی کے حوالے سے سوالات پیدا کر دیتا ہے۔
وائٹ ہاؤس کی جانب سے اس واقعے کے بعد کہا گیا ہے کہ میمز اور ترمیم شدہ مواد جاری رہیں گے، جو اس بات کی عکاسی ہے کہ حکومت اس قسم کی میڈیا کی طاقت کو محدود کرنے میں معتدل رویہ اختیار کر رہی ہے۔ تاہم، اس طرح کی صورتحال صارفین میں معلومات کی درستگی اور میڈیا کی شفافیت کے حوالے سے خدشات بھی بڑھا سکتی ہے۔
یہ واقعہ اس وقت سامنے آیا ہے جب دنیا بھر میں جعلی خبروں اور ترمیم شدہ تصاویر کی تشہیر کو روکنے کے لیے مختلف ممالک قوانین اور ضوابط بنا رہے ہیں۔ امریکہ میں بھی مصنوعی ذہانت کے ذریعے بنائی گئی یا تبدیل کردہ تصاویر اور ویڈیوز کے خلاف سخت قوانین پر غور کیا جا رہا ہے تاکہ عوامی سطح پر معلومات کی سچائی کو یقینی بنایا جا سکے۔
آنے والے دنوں میں یہ معاملہ میڈیا کے آزادانہ اظہار اور معلومات کی درستگی کے درمیان توازن قائم کرنے کے حوالے سے ایک اہم مثال بن سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سرکاری اداروں کو چاہیے کہ وہ میڈیا میں شفافیت کو برقرار رکھتے ہوئے عوام کا اعتماد حاصل کریں تاکہ ایسی صورتحال دوبارہ پیدا نہ ہو۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: decrypt

بروقت خبروں کے لیے ہمارے سوشل چینل جوائن کیجیے