میٹا کی زیر ملکیت واٹس ایپ پر صارفین کے پیغامات تک غیر قانونی رسائی کے الزام پر دائر کردہ ایک جماعتی مقدمہ ابتدائی طور پر ماہرین کرپٹوگرافی اور پرائیویسی کے وکلاء کی جانب سے شکوک و شبہات کا شکار ہو گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس مقدمے میں ثبوتوں کی کمی ہے اور دعوے کو ثابت کرنا مشکل معلوم ہوتا ہے۔
واٹس ایپ دنیا کی سب سے بڑی میسجنگ ایپلیکیشن ہے جس کی ملکیت میٹا کمپنی کے پاس ہے۔ یہ ایپ اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن کے ذریعے صارفین کی گفتگو کو محفوظ بنانے کا دعویٰ کرتی ہے، یعنی صرف پیغام بھیجنے والے اور وصول کرنے والے ہی اس کے مواد کو دیکھ سکتے ہیں، نہ کہ خود کمپنی یا کوئی تیسری پارٹی۔ یہی انکرپشن نظام واٹس ایپ کو صارفین کی پرائیویسی کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم بناتا ہے۔
تاہم، گذشتہ عرصے میں میٹا کے مختلف ڈیٹا پالیسیوں اور صارفین کی معلومات کے استعمال کے حوالے سے سوالات اٹھتے رہے ہیں۔ حالیہ مقدمہ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ میٹا نے واٹس ایپ پیغامات تک غیر مجاز رسائی حاصل کی، جس پر قانونی کارروائی شروع کی گئی ہے۔ لیکن کرپٹوگرافی اور پرائیویسی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ چونکہ اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن کی ٹیکنالوجی صارفین کے پیغامات کو خود کمپنی کی پہنچ سے باہر رکھتی ہے، اس لیے ایسے الزامات کو ثابت کرنا بہت مشکل ہوگا۔
واٹس ایپ کی جانب سے بھی گزشتہ کئی سالوں میں پرائیویسی کو یقینی بنانے کے لیے مختلف حفاظتی اقدامات کیے گئے ہیں، جن میں ڈیٹا انکرپشن اور صارف کی معلومات کی حفاظت شامل ہیں۔ اگرچہ کمپنی کو صارفین کا ڈیٹا اشتہارات یا دیگر مقاصد کے لیے استعمال کرنے پر تنقید کا سامنا رہا ہے، لیکن پیغامات کی نجی نوعیت کو متاثر کرنے کے الزامات کو عام طور پر مسترد کیا جاتا رہا ہے۔
اس مقدمے کا آئندہ قانونی عمل اور اس کے نتائج واٹس ایپ کے صارفین کی پرائیویسی کے تحفظ کے حوالے سے اہم سنگ میل ثابت ہو سکتے ہیں۔ اگر عدالت کسی طرح کے ثبوت کی بنیاد پر میٹا کے خلاف فیصلہ کرتی ہے تو اس سے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کی ذمہ داریوں پر گہرا اثر پڑ سکتا ہے۔ لیکن اس وقت ماہرین کا عمومی تاثر یہ ہے کہ اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن کے موجودہ نظام کی وجہ سے الزامات کو ثابت کرنا آسان نہیں ہوگا۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: decrypt