امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فیڈرل ریزرو بورڈ کے موجودہ چیئرمین جیروم پاول کی جگہ کیوِن وارش کو نامزد کیا ہے۔ کیوِن وارش، جو کہ ایک سابق فیڈ گورنر ہیں، نے کرپٹو کرنسیز کے حوالے سے مخلوط خیالات کا اظہار کیا ہے۔ ان کی نامزدگی امریکی مالیاتی پالیسی اور کرپٹو کرنسی مارکیٹ دونوں کے لیے اہم سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے۔
فیڈرل ریزرو بورڈ، جو امریکہ کی مرکزی بینکنگ اتھارٹی ہے، معیشت کی ریگولیشن، شرح سود کی تعیین اور مالی استحکام کی نگرانی کرتا ہے۔ جیروم پاول کی قیادت میں فیڈ نے مہنگائی پر قابو پانے اور معیشت کی بحالی کی کوششوں کو ترجیح دی ہے۔ کیوِن وارش کے بارے میں جانا جاتا ہے کہ وہ مالیاتی پالیسیوں میں سخت رویہ رکھنے کے حامی ہیں، جبکہ کرپٹو کرنسیز کے حوالے سے ان کے خیالات قدرے محتاط اور متوازن ہیں۔
کرپٹو کرنسیز، جیسے کہ بٹ کوائن اور ایتھیریم، گزشتہ چند سالوں میں عالمی مالیاتی نظام میں اہم کردار ادا کرنے لگیں ہیں۔ تاہم، ان کرنسیوں کے حوالے سے ریگولیٹری خدشات اور مالیاتی استحکام کی وجہ سے مرکزی بینکوں اور حکومتی اداروں کی جانب سے سخت نگرانی جاری ہے۔ کیوِن وارش کی نامزدگی اس حوالے سے ایک نیا موڑ ثابت ہو سکتی ہے کہ آیا فیڈ کرپٹو کرنسیز کو تسلیم کرنے اور انہیں ریگولیٹ کرنے میں زیادہ سختی اختیار کرے گا یا نہیں۔
اگر وارش سخت پالیسی اپناتے ہیں تو اس سے کرپٹو مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ اور سرمایہ کاری پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ دوسری جانب، ان کے متوازن رویے سے مارکیٹ کو استحکام ملنے کے امکانات بھی موجود ہیں۔ فی الوقت، مارکیٹ اور سرمایہ کار اس بات پر نظر رکھے ہوئے ہیں کہ وارش کی قیادت میں فیڈ کس سمت میں جائے گا، خاص طور پر جب عالمی معیشت غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے۔
ٹرمپ کے اس انتخاب نے مالیاتی دنیا میں نئی بحث کو جنم دیا ہے اور اس کے اثرات آنے والے مہینوں میں مزید واضح ہوں گے۔ کرپٹو کرنسیز کی مستقبل کی پالیسی اور ان کی قانونی حیثیت اسی دوران میں مزید واضح ہو سکتی ہے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: decrypt