‘وارہیمّر’ کے تجربہ کار ڈیزائنر جیر وس جانسن نے خبردار کیا: مصنوعی ذہانت انٹرنیٹ کی ’ایسبیسٹوس‘ بن سکتی ہے

زبان کا انتخاب

وارہیمّر کے طویل عرصے سے ڈیزائنر جیر وس جانسن نے گیمز ورکشاپ کی جانب سے جنریٹو مصنوعی ذہانت (AI) پر پابندی کی حمایت کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی تخلیقی کاموں کو نقصان پہنچاتی ہے اور انڈسٹری کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔ جانسن نے مصنوعی ذہانت کو انٹرنیٹ کی ’ایسبیسٹوس‘ قرار دیا، جو ایک ایسا مادہ ہے جسے پہلے عام طور پر استعمال کیا جاتا تھا لیکن بعد میں اس کے صحت کے لیے سنگین خطرات سامنے آئے۔
گیمز ورکشاپ ایک معروف کمپنی ہے جو وار ہیمّر جیسے مشہور بورڈ اور ویڈیو گیمز کی تخلیق اور فروخت سے وابستہ ہے۔ کمپنی نے حال ہی میں اپنی تخلیقی محنت کی حفاظت کے لیے جنریٹو AI ٹیکنالوجیز کے استعمال پر پابندی عائد کی ہے۔ یہ اقدام اس خدشے کے پیش نظر کیا گیا ہے کہ AI کی مدد سے بنائی گئی تخلیقات انسانی فنکاروں اور ڈویلپرز کے کام کی نقل کر کے ان کے حقوق کو متاثر کر سکتی ہیں۔
جنریٹو AI ایسی ٹیکنالوجی ہے جو خودکار طریقے سے مواد تخلیق کر سکتی ہے، جیسے کہ تصاویر، تحریریں، اور موسیقی۔ اگرچہ یہ ٹیکنالوجی بہت سی صنعتوں میں انقلابی تبدیلیاں لا رہی ہے، لیکن تخلیقی شعبوں میں اس کے استعمال سے حقوق دانشورانہ املاک کے تحفظ کے مسائل بھی پیدا ہو رہے ہیں۔
جانسن کا کہنا ہے کہ اگر اس ٹیکنالوجی کو مناسب طریقے سے قابو نہ کیا گیا تو یہ نہ صرف تخلیقی عمل کو نقصان پہنچائے گی بلکہ پورے انٹرنیٹ کی فضا کو بھی آلودہ کر سکتی ہے۔ گیمز ورکشاپ کا یہ اقدام دیگر کمپنیوں کے لیے بھی ایک مثال ہو سکتا ہے کہ وہ مصنوعی ذہانت کے استعمال میں محتاط رہیں تاکہ تخلیقی صنعتوں کی سالمیت برقرار رہے۔
مستقبل میں، AI پر پابندیوں اور ضابطوں کے حوالے سے مزید بحث متوقع ہے کیونکہ دنیا بھر کی کمپنیاں اور قانون ساز اس ٹیکنالوجی کے فوائد اور نقصانات کا جائزہ لے رہی ہیں۔ تخلیقی حقوق کے تحفظ اور AI کے استعمال کے درمیان توازن قائم کرنا ایک اہم چیلنج بن چکا ہے۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: decrypt

بروقت خبروں کے لیے ہمارے سوشل چینل جوائن کیجیے

تازہ خبریں و تحاریر

تلاش