امریکی سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن (ایس ای سی) نے وزڈم ٹری کو بلاک چین پر مبنی ٹریژری سیکیورٹیز کی فوری اور چوبیس گھنٹے ٹریڈنگ کی منظوری دے دی ہے، جو وال اسٹریٹ میں بلاک چین کے استعمال کے لیے ایک اہم پیش رفت ہے۔ اس اقدام سے تقریباً دس ارب ڈالر کی ٹوکنائزڈ ٹریژری مارکیٹ کو تیزی سے فروغ ملنے کی توقع ہے، جس کی قیادت بڑی مالیاتی کمپنیوں جیسے بلیک راک اور سرکل کر رہی ہیں۔
وزڈم ٹری، جو ایک معروف مالیاتی ادارہ ہے، نے اس نئی سہولت کے ذریعے روایتی مالیاتی مارکیٹوں کی حدود کو توڑتے ہوئے سرمایہ کاروں کو سہولت دی ہے کہ وہ ٹریژری بانڈز اور دیگر حکومتی سیکیورٹیز کو بلا توقف اور فوری طور پر خرید و فروخت کر سکیں۔ یہ قدم سرمایہ کاری کے عمل کو زیادہ شفاف، تیز اور موثر بنانے کی کوشش ہے۔ بلاک چین ٹیکنالوجی کے استعمال سے لین دین کی تصدیق اور ریکارڈ کی حفاظت میں بھی بہتری آتی ہے، جو مارکیٹ کے اعتماد کو بڑھانے میں مددگار ثابت ہوگی۔
ٹوکینائزڈ ٹریژری مارکیٹ کے حوالے سے یہ نئی پیش رفت اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ اس مارکیٹ نے گزشتہ کچھ سالوں میں مالیاتی دنیا میں تیزی سے جگہ بنائی ہے۔ بلیک راک اور سرکل جیسی بڑی کمپنیوں کی سرمایہ کاری نے اس شعبے کو مضبوط بنیاد فراہم کی ہے، جس میں روایتی مالیاتی اثاثوں کو ڈیجیٹل ٹوکنز میں تبدیل کیا جاتا ہے تاکہ انہیں بلاک چین نیٹ ورکس پر تجارت کے قابل بنایا جا سکے۔
یہ اقدام مالیاتی مارکیٹوں میں جدید ٹیکنالوجی کو اپنانے کے بڑھتے ہوئے رجحان کی عکاسی کرتا ہے، جس سے توقع کی جا رہی ہے کہ آئندہ بھی ایسے کئی اقدامات ہوں گے جو مالیاتی لین دین کو زیادہ قابل رسائی اور کم لاگت والا بنائیں گے۔ تاہم، بلاک چین اور ٹوکنائزیشن کے ساتھ جڑے خطرات، جیسے سیکیورٹی خدشات اور ضابطہ کاری کے مسائل، سرمایہ کاروں کے لیے چیلنجز بھی پیدا کر سکتے ہیں۔
مجموعی طور پر، ایس ای سی کی یہ منظوری وال اسٹریٹ کی بلاک چین اپنانے کی کوششوں میں ایک اہم سنگ میل ہے، جو مستقبل میں مالیاتی مارکیٹوں کی شکل بدلنے میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk