عالمی کرپٹو کرنسی مارکیٹ میں بٹ کوائن کے حوالے سے مختلف خطوں میں سرمایہ کاروں کے رویے میں واضح فرق دیکھا جا رہا ہے۔ وال اسٹریٹ کے سرمایہ کار بٹ کوائن کے حوالے سے پُر اعتماد نظر آ رہے ہیں جبکہ آف شور تاجروں نے محتاط رویہ اختیار کر رکھا ہے۔ اس رجحان کا اظہار CME اور Deribit جیسے بڑے فیوچرز ایکسچینجز کے درمیان فیوچرز کی بنیاد پر قیمتوں کے فرق میں دیکھا جا سکتا ہے، جو مختلف خطوں میں رسک اپیٹائٹ کی نمائندگی کرتا ہے۔
CME (Chicago Mercantile Exchange) دنیا کی سب سے بڑی رسمی مالیاتی منڈی ہے جہاں بٹ کوائن کے فیوچرز کی تجارت بڑے پیمانے پر ہوتی ہے اور یہاں سرمایہ کار زیادہ مستحکم اور طویل مدتی رجحان کے حامل نظر آتے ہیں۔ دوسری جانب Deribit ایک آف شور پلیٹ فارم ہے جو خاص طور پر کرپٹو کرنسی ڈیریویٹیوز کے لیے مشہور ہے۔ یہاں کے تاجروں میں زیادہ محتاط پن اور کم خطرہ مول لینے کا رجحان پایا جاتا ہے، جو عالمی مالیاتی غیر یقینی صورتحال اور کرپٹو مارکیٹ کی اتار چڑھاؤ کی وجہ سے ہو سکتا ہے۔
بٹ کوائن، جو دنیا کی سب سے معروف اور قدیم کرپٹو کرنسی ہے، نے گزشتہ چند برسوں میں مالیاتی منڈیوں میں اپنی جگہ مضبوط کی ہے۔ اس کی قیمت اور مانگ عالمی سطح پر سرمایہ کاروں کی دلچسپی کا آئینہ دار ہے۔ تاہم، مختلف خطوں میں سیاسی، اقتصادی اور مالیاتی حالات کی وجہ سے سرمایہ کاروں کے رویے میں فرق آنا معمول کی بات ہے۔
مستقبل میں، اگر عالمی مارکیٹ میں استحکام قائم رہا تو وال اسٹریٹ کے اعتماد کو مزید تقویت مل سکتی ہے، مگر عالمی معاشی غیر یقینی صورتحال اور کرپٹو کرنسیوں کے ریگولیٹری ماحول میں ممکنہ تبدیلیاں آف شور تاجروں کی محتاط پوزیشن کو بڑھا سکتی ہیں۔ سرمایہ کاروں کو مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ اور عالمی مالیاتی حالات پر گہری نظر رکھنی ہوگی تاکہ بہتر فیصلے کیے جا سکیں۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk