ویزا اور ماسٹر کارڈ مستحکم کوائن کی عام ادائیگیوں میں دلچسپی نہیں رکھتے

زبان کا انتخاب

کریپٹو کرنسی کی تیز اور کم لاگت لین دین کی پیش کش کے باوجود، ادائیگیوں کی بڑی کمپنیوں ویزا اور ماسٹر کارڈ نے مستحکم کوائنز (اسٹیبل کوائنز) کو روزمرہ کی ادائیگیوں کے لیے مکمل طور پر قبول نہیں کیا ہے، خاص طور پر ترقی یافتہ مارکیٹوں میں۔ اسٹیبل کوائنز ایسے ڈیجیٹل کرپٹو کرنسیاں ہیں جن کی قیمت عام طور پر کسی مستحکم اثاثے جیسے امریکی ڈالر یا سونا کے ساتھ جڑی ہوتی ہے، جس کا مقصد قیمت میں اتار چڑھاؤ کو کم کرنا ہے۔
ویزا اور ماسٹر کارڈ کی جانب سے اس رجحان کی عدم دلچسپی کا مطلب یہ ہے کہ وہ اب بھی روایتی ادائیگی کے نظاموں اور بینکوں پر زیادہ انحصار کرنے کو ترجیح دیتے ہیں، تاکہ صارفین کو زیادہ اعتماد اور استحکام فراہم کیا جا سکے۔ اگرچہ کرپٹو کرنسیز اور اسٹیبل کوائنز کی مقبولیت میں اضافہ ہو رہا ہے اور بہت سی کمپنیوں نے ان کو مالیاتی نظام میں شامل کرنے کی کوشش کی ہے، لیکن بڑے ادائیگی نیٹ ورکس کی جانب سے اس پر مکمل اعتماد کا فقدان موجود ہے۔
مزید برآں، اسٹیبل کوائنز کے حوالے سے ریگولیٹری امور اور مالیاتی استحکام سے متعلق خدشات بھی ویزا اور ماسٹر کارڈ کے فیصلے پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک میں مالیاتی نگرانی زیادہ سخت ہے، جس کی وجہ سے ان کمپنیوں کو نئی کرنسیوں کو اپنانے میں محتاط رویہ اختیار کرنا پڑتا ہے۔
کرپٹو کرنسی اور بلاک چین ٹیکنالوجی کی دنیا میں یہ ایک اہم موڑ ہو سکتا ہے، کیونکہ اگر بڑے ادائیگی نیٹ ورکس اس رجحان کو اپنانے میں کامیاب نہیں ہوتے تو اس کے اثرات وسیع ہو سکتے ہیں۔ تاہم، اب بھی چھوٹے اور ابھرتے ہوئے مارکیٹوں میں اسٹیبل کوائنز کی مقبولیت بڑھ رہی ہے جہاں روایتی بینکنگ خدمات کم دستیاب ہیں۔ مستقبل میں، ویزا اور ماسٹر کارڈ کی پالیسیاں اس بات کا تعین کریں گی کہ آیا یہ ٹیکنالوجی عالمی سطح پر ادائیگی کے نظام کا حصہ بنے گی یا نہیں۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk

بروقت خبروں کے لیے ہمارے سوشل چینل جوائن کیجیے