امریکی بینکاری صنعت کے نمائندوں نے اسٹیبل کوائنز کی ییلڈ حاصل کرنے کے نئے طریقوں پر تحفظات کا اظہار کیا ہے، جنہیں مقامی قرضہ جات کے نظام کے لیے خطرناک قرار دیا جا رہا ہے۔ بینکاروں کا موقف ہے کہ یہ متبادل راستے مقامی مالیاتی اداروں کی کارکردگی اور قرض دینے کی صلاحیت کو متاثر کر سکتے ہیں، جس سے مجموعی طور پر معیشت پر منفی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔
اگرچہ بینکاری شعبے کی طرف سے یہ خدشات بجا سمجھے جا رہے ہیں، تاہم صنعت کے کچھ ماہرین نے ان خدشات کو حد سے زیادہ بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کی نشاندہی کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس طرح کے مسائل کے حل کے لیے متوازن قوانین کی ضرورت ہے جو مالی جدت طرازی کو دبائے بغیر اس شعبے کو مستحکم کریں۔ اسٹیبل کوائنز، جو کرپٹو مارکیٹ کا ایک اہم حصہ ہیں، اپنی قیمت کو کسی مستحکم اثاثے جیسے امریکی ڈالر سے منسلک رکھتے ہیں تاکہ قیمت میں اتار چڑھاؤ کو محدود کیا جا سکے۔
اسٹیبل کوائنز کی بڑھتی ہوئی مقبولیت نے مالیاتی خدمات کے شعبے میں نئے مواقع پیدا کیے ہیں، خاص طور پر ڈیجیٹل لین دین اور سرمایہ کاری کے حوالے سے۔ تاہم، ان کے ییلڈ پروگرامز یا منافع بخش آپشنز میں پیچیدگیاں اور ریگولیٹری خلا بھی موجود ہیں، جس کی وجہ سے روایتی مالیاتی ادارے خدشات کا شکار ہیں۔
امریکہ میں مالیاتی حکام اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ کس طرح اس نئے ڈیجیٹل مالیاتی نظام کو باقاعدہ بنایا جائے تاکہ صارفین اور مالیاتی استحکام دونوں کی حفاظت کی جا سکے۔ آئندہ چند ماہ میں اس حوالے سے مزید واضح رہنمائی اور قوانین متوقع ہیں، جو اسٹیبل کوائنز اور بینکاری شعبے کے مابین تعلقات کی نوعیت کو متعین کریں گے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: decrypt