یونی سوآپ نے بینکور کی جانب سے دائر کردہ پیٹنٹ انفریجمنٹ کیس میں کامیابی حاصل کی ہے، جس میں بینکور نے یونی سوآپ پر اس کی کنسٹنٹ پروڈکٹ آٹومیٹڈ مارکیٹ میکر (CPAMM) ٹیکنالوجی کے غیر مجاز استعمال کا الزام عائد کیا تھا۔ یہ مقدمہ نیو یارک کے جنوبی ضلع کی وفاقی عدالت میں زیر سماعت تھا جہاں یونی سوآپ نے اپنے دفاع میں کہا کہ اس کے پروٹوکول کا کوڈ مقدمے کے آغاز سے پہلے ہی عوام کے لیے دستیاب تھا، جس کے نتیجے میں بینکور کے دعوے مسترد کر دیے گئے۔
یونی سوآپ اور بینکور دونوں ڈی سینٹرلائزڈ ایکسچینجز ہیں جو کرپٹو کرنسی کی ٹریڈنگ کے لیے خودکار مارکیٹ میکر ٹیکنالوجی استعمال کرتے ہیں۔ یہ ٹیکنالوجی بلاک چین پر مبنی ہوتی ہے اور ٹریڈرز کو بغیر کسی درمیانے فریق کے فوری اور کم قیمت پر لین دین کی سہولت فراہم کرتی ہے۔ یونی سوآپ اس فیلڈ میں ایک معروف پلیٹ فارم ہے جس کی وجہ سے اس کی ٹیکنالوجی پر بھی خاص توجہ دی جاتی ہے۔
بینکور کا دعویٰ تھا کہ یونی سوآپ نے اس کی CPAMM ٹیکنالوجی کو بلا اجازت استعمال کیا ہے، لیکن یونی سوآپ نے عدالت میں واضح کیا کہ اس کا کوڈ اوپن سورس ہے اور اسے کسی نے بھی آزادانہ طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس دفاع کی بنیاد پر عدالت نے یونی سوآپ کے حق میں فیصلہ دیا۔
یہ فیصلہ کرپٹو کرنسی اور بلاک چین کی دنیا میں ایک اہم سنگ میل تصور کیا جا رہا ہے کیونکہ یہ ڈی سینٹرلائزڈ فنانس (DeFi) پلیٹ فارمز کے درمیان حقوق اور اختراعات کی حفاظت کے مسئلے پر روشنی ڈالتا ہے۔ آئندہ اس طرح کے مقدمات میں بھی اوپن سورس کوڈ کی اہمیت مزید بڑھ سکتی ہے اور اسی طرح مختلف پلیٹ فارمز کے درمیان قانونی تنازعات کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔
اس کامیابی کے بعد یونی سوآپ کی قانونی حیثیت مضبوط ہوئی ہے اور یہ پلیٹ فارم مزید اعتماد کے ساتھ اپنی خدمات کو بہتر بنانے پر توجہ دے سکتا ہے۔ تاہم، کرپٹو مارکیٹ میں قانونی پیچیدگیوں کا سلسلہ جاری رہنے کا امکان ہے، جس کے لیے مختلف پلیٹ فارمز کو اپنی ٹیکنالوجیز کی قانونی جانچ پڑتال کرنا ضروری ہے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance