یونیسیف نے دنیا بھر کی حکومتوں پر زور دیا ہے کہ وہ مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے بنائے جانے والے بچوں کے جنسی استحصال کے مواد کو جرم قرار دیں۔ تنظیم نے خبردار کیا ہے کہ ڈیپ فیک ٹیکنالوجی کے استعمال سے ایسے جعلی ویڈیوز اور تصاویر تیار کی جاتی ہیں جو بچوں کو شدید نقصان پہنچا سکتی ہیں اور موجودہ قوانین ان نئے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لئے ناکافی ہیں۔
ڈیپ فیک ٹیکنالوجی کا مطلب ہے کہ کمپیوٹر پروگراموں کی مدد سے کسی شخص کی تصویر یا ویڈیو کو اس طرح تبدیل کیا جائے کہ وہ اصلی لگے، حالانکہ وہ جعلی ہو۔ بچوں کے جنسی استحصال کے حوالے سے اس تکنیک کا استعمال نہایت خطرناک ہے کیونکہ یہ جھوٹے مواد بناتا ہے جو بچوں کی ساکھ اور ذہنی صحت کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ علاوہ ازیں، ایسے مواد کی تشہیر اور استعمال بچوں کے تحفظ کے لیے بڑے خطرات کا باعث بن سکتا ہے۔
یونیسیف نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ موجودہ قانونی فریم ورک میں AI کے ذریعے تیار کردہ استحصالی مواد کو شامل کرنا ناگزیر ہے تاکہ مجرموں کو موثر طریقے سے قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔ یہ اقدام بچوں کی حفاظت کے لیے ایک اہم قدم ہوگا اور ڈیجیٹل دنیا میں ان کے حقوق کا تحفظ یقینی بنائے گا۔
عالمی سطح پر بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے قوانین اور پالیسیاں مستقل طور پر اپ ڈیٹ کی جا رہی ہیں تاکہ نئی ٹیکنالوجیز کے منفی پہلوؤں کا مقابلہ کیا جا سکے۔ اس ضمن میں، حکومتوں، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور بین الاقوامی تنظیموں کے درمیان تعاون نہایت اہم ہے تاکہ بچوں کو ہر قسم کے استحصال سے بچایا جا سکے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اس مسئلے پر فوری اور موثر قانونی کارروائی نہ کی گئی تو AI کے ذریعے تیار کردہ بچوں کے استحصالی مواد کا پھیلاؤ مزید بڑھے گا، جس سے بچوں کی حفاظت کو سنگین خطرات لاحق ہوں گے۔ اس لیے، عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ اس نئے چیلنج کا مقابلہ کرنے کے لیے مشترکہ حکمت عملی اپنائے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: decrypt