برطانیہ کی حکومت نے چار کمپنیوں کو سٹیبل کوائنز کے حوالے سے ریگولیٹری سینڈباکس پروگرام میں شامل کیا ہے، جس میں معروف فنانشل ٹیکنالوجی فرم ریوالو بھی شامل ہے۔ اس پروگرام کے تحت منتخب شدہ کمپنیوں کو آزادی دی جائے گی کہ وہ نئے مالیاتی قواعد و ضوابط کے تحت اپنی سٹیبل کوائن مصنوعات اور خدمات کا تجربہ کر سکیں۔ یہ تجربات برطانیہ میں سٹیبل کوائنز کے لیے حتمی قوانین کی تشکیل میں مدد دیں گے، جو کہ اس سال کے آخر تک متوقع ہیں۔
سٹیبل کوائنز ایسی کرپٹو کرنسیاں ہوتی ہیں جن کی قیمت عام طور پر کسی مستحکم اثاثے جیسے امریکی ڈالر یا سونا سے منسلک ہوتی ہے، تاکہ قیمت میں اتار چڑھاؤ کو کم کیا جا سکے۔ یہ کرنسیاں ڈیجیٹل ادائیگیوں اور مالیاتی لین دین میں آسانی فراہم کرنے کے لیے دنیا بھر میں مقبول ہوتی جا رہی ہیں۔ برطانیہ میں بھی ڈیجیٹل مالیاتی نظام کو جدید بنانے اور صارفین کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے سٹیبل کوائنز پر موثر ریگولیشن متعارف کرانے کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔
ریوالو جیسی کمپنیوں کا اس سینڈباکس میں شامل ہونا اس بات کی علامت ہے کہ برطانیہ مالیاتی ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے ایک متوازن اور جدید حکمت عملی اپنانا چاہتا ہے، جو نہ صرف انوکھے اقدامات کی اجازت دے بلکہ مالیاتی استحکام کو بھی یقینی بنائے۔ اس پروگرام کے ذریعے حکومت کو حقیقی دنیا میں سٹیبل کوائنز کے استعمال اور ان کے ممکنہ خطرات اور فوائد کا بہتر ادراک حاصل ہوگا، جس سے بعد میں بننے والے قوانین زیادہ مؤثر اور قابل عمل ہوں گے۔
آنے والے مہینوں میں اس سینڈباکس کے تجربات کی بنیاد پر برطانیہ میں سٹیبل کوائنز کے حوالے سے جامع ریگولیٹری فریم ورک جاری کیا جائے گا، جس سے نہ صرف مالیاتی نظام میں شفافیت بڑھے گی بلکہ صارفین کا اعتماد بھی مضبوط ہوگا۔ تاہم، کرپٹو کرنسیز کی دنیا میں عدم استحکام اور سیکیورٹی چیلنجز بھی موجود ہیں، جنہیں ان قوانین میں مناسب طریقے سے شامل کیا جائے گا تاکہ مالیاتی نظام میں کسی قسم کی غیر یقینی صورتحال کا سامنا نہ ہو۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: decrypt