برطانوی وزیراعظم کے چیف آف اسٹاف مورگن میک سوئنی نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ وزیراعظم کے دفتر کی جانب سے جاری کردہ معلومات کے مطابق یہ فیصلہ ایک داخلی تنازع کے بعد سامنے آیا ہے۔ برطانوی پارلیمنٹ کے متعدد ارکان نے انکشاف کیا ہے کہ میک سوئنی نے سابق لیبر پارٹی کے سینئر رکن پیٹر مینڈلسن کو امریکہ میں برطانیہ کا سفیر مقرر کرنے میں اہم کردار ادا کیا تھا، جس پر پارٹی کے اندر شدید اختلاف رائے پایا جاتا ہے۔
پیٹر مینڈلسن کی سفارتکاری میں تعیناتی کو لیبر پارٹی کے مختلف حلقوں میں تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے کیونکہ کچھ حلقے اسے سیاسی مفادات کی بنیاد پر فیصلہ سمجھتے ہیں۔ میک سوئنی کی اس تقرری میں مداخلت کو پارٹی کی قیادت میں اختلافات کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔ اس تنازع نے برطانوی سیاست میں نئی بحث چھیڑ دی ہے کہ سفارتی تقرریاں کس حد تک سیاسی اثر و رسوخ کی بنیاد پر کی جاتی ہیں۔
برطانیہ میں وزیراعظم کے چیف آف اسٹاف کا عہدہ انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے، کیونکہ یہ شخص وزیراعظم کے قریبی مشیر اور انتظامی امور کا نگراں ہوتا ہے۔ اس عہدے سے استعفیٰ سیاسی سطح پر گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے اور حکومت کی داخلی پالیسیوں میں تبدیلی کا باعث بن سکتا ہے۔ اس وقت یہ سوالات اٹھ رہے ہیں کہ اس استعفیٰ کے بعد برطانوی حکومت اپنی سفارتی حکمت عملی اور پارٹی کی داخلی ہم آہنگی کو کس طرح بہتر بنائے گی۔
برطانیہ کی سیاست میں ایسے واقعات عام ہیں جہاں سیاسی تقرریاں اور پارٹی کے اندرونی اختلافات عوامی توجہ کا مرکز بنتے ہیں۔ اس صورتحال میں اگلے چند دنوں میں مزید سیاسی ردعمل اور ممکنہ تبدیلیوں کا امکان ہے جو ملک کی سیاسی اور سفارتی پالیسیوں پر اثر انداز ہو سکتی ہیں۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance