برطانیہ کی عدالتِ استیناف نے مشہور آن لائن گیم “رُونسکیپ” کے ورچوئل کرنسی گولڈ کو حقیقی جائیداد قرار دیتے ہوئے ایک سابق جے گیکس ملازم کے خلاف چوری کے مقدمے میں اہم فیصلہ سنایا ہے۔ اس سابق ملازم پر الزام ہے کہ اس نے ۷۰۰ ارب سے زائد ورچوئل گولڈ چوری کی اور اسے کرپٹو اور فیاٹ کرنسی میں تقریباً ۷۵۰ ہزار ڈالر کے عوض بیچ دیا۔
رُونسکیپ ایک مشہور ملٹی پلیئر آن لائن رول پلےئنگ گیم ہے جس میں کھلاڑی ورچوئل دنیا میں مختلف سرگرمیاں انجام دیتے ہوئے گولڈ اور دیگر اشیاء جمع کرتے ہیں۔ اس گیم کی معیشت میں ورچوئل گولڈ کی قیمت حقیقی معیشت میں بھی اثر انداز ہوتی ہے اور اسے خرید و فروخت کی صورت میں حقیقی پیسے میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ اس مقدمے کا فیصلہ ورچوئل کرنسی کے قانونی حیثیت کے حوالے سے ایک اہم سنگ میل ہے کیونکہ عدالت نے اسے جائیداد تسلیم کرکے ورچوئل کرنسی کے تحفظ کو مضبوط کیا ہے۔
یہ مقدمہ اس وقت منظرِ عام پر آیا جب جے گیکس کمپنی نے اپنے سابق ملازم کے خلاف قانونی کارروائی کی، جس نے کمپنی کے سسٹم سے غیر قانونی طور پر یہ گولڈ نکالا۔ عدالت کا یہ فیصلہ ورچوئل کرنسی کی چوری اور فراڈ کے خلاف قانونی چارہ جوئی میں نئے دروازے کھولے گا اور اس طرح کی ورچوئل اشیاء کی مالیت اور ملکیت کے حوالے سے قانونی پیچیدگیوں کو واضح کرے گا۔
آئندہ اس فیصلے کے اثرات آن لائن گیمز اور ورچوئل کرنسی کے شعبے میں مزید قانونی اور مالی تحفظ فراہم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں، تاہم ورچوئل کرنسی کی غیر یقینی نوعیت اب بھی ایک چیلنج کے طور پر موجود ہے جس پر قانونی ماہرین اور حکومتی ادارے توجہ دے رہے ہیں۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: decrypt