یو بی ایس ممکنہ طور پر انفرادی صارفین کو کرپٹو کرنسی کی سہولت فراہم کرنے پر غور کر رہا ہے

زبان کا انتخاب

بین الاقوامی مالیاتی ادارہ یو بی ایس کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سرجیو ایرموٹی نے اعلان کیا ہے کہ بینک انفرادی صارفین کو کرپٹو کرنسی تک رسائی فراہم کرنے کے امکانات پر غور کر رہا ہے۔ تاہم، انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یو بی ایس بلاک چین پر مبنی ٹیکنالوجیز کو اپنانے میں سب سے آگے نہیں ہوگا بلکہ اس سلسلے میں محتاط حکمت عملی اپنائے گا۔
یو بی ایس دنیا کے بڑے بینکوں میں شمار ہوتا ہے اور اس کا شمار مالیاتی خدمات فراہم کرنے والے اداروں میں ہوتا ہے جو روایتی بینکاری کے ساتھ ساتھ جدید مالیاتی ٹیکنالوجی کو بھی اپنانے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ کرپٹو کرنسی مارکیٹ میں حالیہ برسوں میں زبردست ترقی دیکھی گئی ہے، جس کی وجہ سے بڑی مالیاتی کمپنیوں نے اس کے ممکنہ فوائد اور خطرات کا جائزہ لینا شروع کر دیا ہے۔
یو بی ایس کی جانب سے کرپٹو کرنسی تک رسائی فراہم کرنے کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ بینک اپنے صارفین کو بٹ کوائن، ایتھیریم یا دیگر ڈیجیٹل کرنسیوں میں سرمایہ کاری کا موقع دے گا، جس سے روایتی مالیاتی نظام میں ایک نئی جہت کا اضافہ ہوگا۔ تاہم، بینک کی جانب سے محتاط رویہ اپنانے کا مطلب یہ بھی ہے کہ وہ قوانین، سیکورٹی اور مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی حکمت عملی تیار کرے گا تاکہ صارفین کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
اس پیش رفت سے مالیاتی دنیا میں ایک اہم تبدیلی کا امکان ظاہر ہوتا ہے کیونکہ بڑے بینک روایتی بینکاری سے ہٹ کر ڈیجیٹل اثاثوں کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ اگرچہ ابھی اس سلسلے میں حتمی فیصلہ نہیں ہوا، لیکن مالیاتی ماہرین کا ماننا ہے کہ یو بی ایس کی یہ حکمت عملی دیگر بینکوں اور فنانشل اداروں کے لیے بھی راہنمائی کا باعث بن سکتی ہے۔
قابل ذکر ہے کہ کرپٹو کرنسیوں کی دنیا میں اتار چڑھاؤ بہت زیادہ ہوتا ہے، اس لیے بینکوں کی جانب سے اس شعبے میں محتاط اور مرحلہ وار قدم اٹھانا ایک عام رجحان ہے۔ مستقبل میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ یو بی ایس دیگر مالیاتی اداروں کے مقابلے میں کس حد تک اس نئی ٹیکنالوجی کو اپناتا ہے اور کس طرح یہ اقدام صارفین کے لیے فائدہ مند ثابت ہوتا ہے۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance

بروقت خبروں کے لیے ہمارے سوشل چینل جوائن کیجیے