امریکی محکمہ خزانہ کرپٹو کرنسی پلیٹ فارمز کی جانچ پڑتال کر رہا ہے تاکہ ایران کے خلاف عائد پابندیوں کی خلاف ورزی میں سہولت فراہم کرنے والے اقدامات کا پتہ چلایا جا سکے۔ یہ تحقیقات کرپٹو والیٹس تک محدود نہیں بلکہ مکمل ایکسچینجز پر بھی مرکوز ہیں۔ امریکی محکمہ خزانہ کا مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ کرپٹو کرنسی کے استعمال کے ذریعے ایران پابندیوں سے بچ نہ سکے۔
کرپٹو کرنسی کی دنیا میں تیزی سے بڑھتی ہوئی مقبولیت اور اس کے غیر مرکزی نوعیت کے سبب پابندیوں کی خلاف ورزی کے نئے طریقے سامنے آئے ہیں۔ ایران پر امریکہ اور دیگر ممالک نے مختلف اقتصادی پابندیاں عائد کی ہیں تاکہ اس کے مالیاتی وسائل کو محدود کیا جا سکے۔ تاہم، کرپٹو کرنسی کی مدد سے ایران نے ان پابندیوں کو چیلنج کرنے کی کوشش کی ہے، جس پر عالمی ادارے اور حکومتیں خصوصی توجہ دے رہی ہیں۔
TRM Labs، جو کہ کرپٹو کرنسی کے خطرات اور فراڈ کی نشاندہی میں مہارت رکھتی ہے، کے ایک نمائندے نے بتایا ہے کہ محکمہ خزانہ کی تحقیقات سے ظاہر ہوتا ہے کہ اب صرف کرپٹو والیٹس کی نگرانی نہیں بلکہ مکمل پلیٹ فارمز کی جانچ بھی کی جا رہی ہے تاکہ پابندیوں کی خلاف ورزی کو موثر طریقے سے روکا جا سکے۔ یہ اقدام کرپٹو مارکیٹ میں شفافیت اور قانونی پابندیوں کی پاسداری کو فروغ دینے کی کوشش ہے۔
کرپٹو کرنسی کے شعبے میں اس طرح کی تحقیقات سے مارکیٹ میں مختلف ردعمل متوقع ہیں۔ ایک طرف یہ قانونی فریم ورک کو مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں، تو دوسری طرف کچھ پلیٹ فارمز پر ممکنہ پابندیوں اور جرمانوں کا سامنا بھی ہو سکتا ہے۔ اس صورتحال میں کرپٹو کرنسی کے صارفین اور سرمایہ کاروں کو محتاط رہنے اور معتبر پلیٹ فارمز کا انتخاب کرنے کی ضرورت ہے۔
کرپٹو کرنسی کے عالمی منظرنامے میں یہ پیش رفت اس بات کا ثبوت ہے کہ روایتی مالیاتی نظام کے ساتھ ساتھ ڈیجیٹل کرنسی پر بھی قواعد و ضوابط کا دائرہ بڑھ رہا ہے، تاکہ مالیاتی جرائم اور پابندیوں کی خلاف ورزی کو روکا جا سکے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk