امریکی سپریم کورٹ نے ٹرمپ کے ‘لبریشن ڈے’ ٹیریفس کو کالعدم قرار دے دیا

زبان کا انتخاب

امریکی سپریم کورٹ نے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے عائد کیے گئے ‘لبریشن ڈے’ ٹیریفس کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے ان پر پابندی عائد کر دی ہے۔ عدالت نے فیصلہ دیا کہ یہ ٹیریفس بین الاقوامی ایمرجنسی اکنامک پاورز ایکٹ (IEEPA) کے تحت صدر کی قانونی اختیارات سے تجاوز کرتے ہیں۔ اس فیصلے کا فوری اثر مارکیٹ پر دیکھا گیا جہاں بٹ کوائن کی قدر میں عارضی کمی آئی لیکن بعد ازاں مارکیٹ نے جزوی طور پر بحالی دیکھی۔ تاہم، سیاسی اور اقتصادی غیر یقینی صورتحال نے مارکیٹ میں بڑے پیمانے پر فروخت کا رجحان بھی جنم دیا۔
‘لبریشن ڈے’ ٹیریفس کی تاریخ کو سامنے رکھتے ہوئے یہ اقدامات امریکہ کی تجارتی پالیسی میں ایک نمایاں موڑ تھے جو بعض درآمدی اشیاء پر اضافی محصولات عائد کرتے تھے تاکہ مقامی صنعتوں کو تحفظ دیا جا سکے۔ تاہم، ان ٹیریفس کی قانونی حیثیت پر سوالات اٹھتے رہے اور بالآخر سپریم کورٹ نے انہیں صدر کے اختیارات سے تجاوز قرار دے کر منسوخ کر دیا۔
سابق صدر ٹرمپ نے اس فیصلے کے بعد ایک نیا ٹریف نافذ کرنے کا اعلان کیا ہے جو مختلف قانونی بنیادوں پر مبنی ہوگا۔ اس کے ساتھ ہی کرپٹو کرنسیز کے حوالے سے سیاسی اور قانونی ماحول میں مزید پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں، جو مستقبل میں کرپٹو مارکیٹ کی سمت پر اثر انداز ہو سکتی ہیں۔ کرپٹو کرنسیز کی دنیا میں امریکی حکومتی پالیسیاں اہم کردار ادا کرتی ہیں کیونکہ امریکہ عالمی مالیاتی نظام میں ایک کلیدی ملک ہے۔
اس فیصلے کے بعد مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال برقرار رہنے کا خدشہ ہے، خاص طور پر جب سیاسی تبدیلیاں اور اقتصادی پالیسیاں مسلسل تبدیل ہو رہی ہوں۔ سرمایہ کاروں اور مارکیٹ کے شرکاء کے لیے یہ ایک اہم موقع ہے کہ وہ حالیہ قانونی اور سیاسی رجحانات کو قریب سے سمجھیں تاکہ اپنی سرمایہ کاری کے فیصلے بہتر انداز میں کر سکیں۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance

بروقت خبروں کے لیے ہمارے سوشل چینل جوائن کیجیے