امریکی سینیٹ کے ہاؤسنگ بل میں CBDC پر پابندی کا خیال شامل

زبان کا انتخاب

امریکہ کی سینیٹ بینکنگ کمیٹی نے دوطرفہ حمایت یافتہ “ROAD to Housing Act” کے تحت ایک اہم شق شامل کی ہے جس کے مطابق وفاقی ریزرو بینک کو 2031 سے پہلے کوئی مرکزی بینک ڈیجیٹل کرنسی (CBDC) جاری کرنے سے روکا جائے گا۔ اس بل کا مقصد ہاؤسنگ کے شعبے میں اصلاحات کے ساتھ ساتھ مالیاتی پالیسیوں پر کنٹرول بڑھانا ہے، جس میں ڈیجیٹل کرنسیوں کے حوالے سے بھی تحفظات شامل ہیں۔
CBDC ایک ایسا ڈیجیٹل کرنسی ماڈل ہے جسے مرکزی بینک خود جاری کرتا ہے، اور یہ روایتی کرپٹو کرنسیوں سے مختلف ہوتا ہے کیونکہ اس کا بیک اپ حکومت کی طرف سے ہوتا ہے۔ دنیا بھر میں کئی ممالک اس ٹیکنالوجی پر غور کر رہے ہیں تاکہ مالیاتی نظام کو جدید بنایا جا سکے۔ تاہم، امریکہ میں اس حوالے سے محتاط رویہ اپنایا جا رہا ہے، خاص طور پر ڈیجیٹل کرنسی کی ممکنہ معاشی اور پرائیویسی سے متعلق پیچیدگیوں کی وجہ سے۔
اس بل میں CBDC کی پابندی کا مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ وفاقی ریزرو بینک سے پہلے مکمل جائزہ اور عوامی مشاورت کے بغیر کوئی ڈیجیٹل کرنسی جاری نہ ہو۔ قانون سازوں کو خدشہ ہے کہ اگر اس وقت CBDC متعارف کرائی گئی تو اس کے مالیاتی استحکام اور صارفین کی پرائیویسی پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
یہ اقدام امریکی مالیاتی پالیسی میں ایک نمایاں موڑ سمجھا جا رہا ہے کیونکہ دنیا کے دیگر بڑے معاشی مراکز، جیسے چین اور یورپ، اپنی مرکزی بینکوں کی ڈیجیٹل کرنسیوں کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ اس پابندی کے بعد امریکی مالیاتی ماہرین اور صنعت کار اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ امریکہ کب اور کیسے اپنی CBDC پالیسی کو آگے بڑھائے گا، اور اس دوران مالیاتی مارکیٹوں پر کیا اثرات مرتب ہوں گے۔
مستقبل میں، اگرچہ یہ پابندی 2031 تک برقرار رہے گی، لیکن ممکنہ طور پر اس کے بعد امریکی مرکزی بینک اپنے مالیاتی نظام کو جدید بنانے کے لیے CBDC پر مزید تحقیق اور تجربات کر سکتا ہے۔ اس دوران، مالیاتی شفافیت، صارفین کا تحفظ، اور ٹیکنالوجی کی ترقی کے درمیان توازن قائم رکھنا ایک اہم چیلنج ہوگا۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk

بروقت خبروں کے لیے ہمارے سوشل چینل جوائن کیجیے

تازہ خبریں و تحاریر

تلاش