امریکی سینیٹ کے ڈیموکریٹس نے ٹریژری اور محکمہ انصاف سے بائننس کی غیر قانونی مالیاتی نگرانی کی تحقیقات کا مطالبہ کر دیا

زبان کا انتخاب

امریکی سینیٹ کے نو ڈیموکریٹ ارکان نے وفاقی اداروں، خصوصاً وزارت خزانہ اور محکمہ انصاف، سے عالمی سطح پر معروف کرپٹو کرنسی ایکسچینج بائننس کی غیر قانونی مالیاتی سرگرمیوں کی جانچ پڑتال کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ مطالبہ ایسے رپورٹس کے بعد سامنے آیا ہے جن میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ بائننس کے پلیٹ فارم کے ذریعے دہشت گرد تنظیموں کو مالی تعاون فراہم کیا جا سکتا ہے۔
بائننس دنیا کا سب سے بڑا کرپٹو کرنسی ایکسچینج ہے جہاں صارفین بٹ کوائن، ایتھیریم اور دیگر ڈیجیٹل کرنسیاں خرید و فروخت کرتے ہیں۔ اس پلیٹ فارم کی عالمی سطح پر بڑی مقبولیت کے باوجود گزشتہ کچھ عرصے میں اس کی مالیاتی نگرانی اور قانونی تعمیل کے حوالے سے تشویشات بڑھتی جا رہی ہیں۔ کئی ممالک میں اس کے خلاف قانونی کارروائیاں بھی ہو چکی ہیں جن میں صارفین کی شناخت کی تصدیق اور مالیاتی لین دین کی نگرانی کا فقدان شامل ہے۔
کرپٹو کرنسیز کی دنیا میں غیر قانونی سرگرمیوں جیسے منی لانڈرنگ، دہشت گردی کی مالی معاونت، اور دیگر مالی جرائم ایک سنجیدہ مسئلہ بن چکے ہیں۔ اس پس منظر میں امریکی قانون ساز ادارے اس بات کو یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ بائننس جیسی بڑی کرپٹو کرنسی ایکسچینجز عالمی مالیاتی نظام کے قوانین کی مکمل پاسداری کریں۔
ٹریژری اور محکمہ انصاف کی جانب سے ممکنہ تحقیقات میں بائننس کے مالیاتی کنٹرولز، صارفین کی شناخت کی پالیسیوں، اور مشکوک مالیاتی سرگرمیوں کی روک تھام کے اقدامات کا جائزہ لیا جائے گا۔ اگر تحقیقات میں کسی قسم کی خلاف ورزی سامنے آتی ہے تو اس کے سخت قانونی نتائج ہو سکتے ہیں جن میں جرمانے اور کاروباری پابندیاں شامل ہو سکتی ہیں۔
کرپٹو کرنسیز کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کے باوجود ان کے قانونی اور مالیاتی پہلوؤں پر شفافیت اور نگرانی کا فقدان عالمی مالیاتی نظام کے لیے خطرات پیدا کر رہا ہے۔ اس لیے بین الاقوامی سطح پر بھی کرپٹو مارکیٹس کی نگرانی اور ضوابط میں بہتری کے لیے کوششیں جاری ہیں۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk

بروقت خبروں کے لیے ہمارے سوشل چینل جوائن کیجیے