امریکہ، صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں، گرین لینڈ میں اپنے اسٹریٹجک مفادات کو آگے بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے، اگرچہ اسے سفارتی مزاحمت اور مالیاتی مارکیٹ میں منفی ردعمل کا سامنا ہے۔ اس دوران، عالمی اقتصادی فورم ڈاؤوس میں کرپٹو کرنسی سیکٹر کے اہم شخصیات کے درمیان بلاک چین ٹیکنالوجی کو روایتی مالیاتی نظام کے ساتھ مربوط کرنے پر بات چیت جاری ہے۔ یہ قدم عالمی مالیاتی نظام میں بلاک چین کے بڑھتے ہوئے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔
اسی سلسلے میں، نیو یارک اسٹاک ایکسچینج نے ایک نیا ٹوکنائزیشن پلیٹ فارم متعارف کرایا ہے، جس کا مقصد سیکیورٹیز کی آن-چین تجارت کو آسان بنانا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ روایتی مالیاتی بازار میں بلاک چین ٹیکنالوجی کی اپنائیت میں اضافہ ہو رہا ہے، جو سرمایہ کاری اور تجارتی عمل کو زیادہ شفاف اور تیز تر بنانے میں مدد دے گا۔
دوسری جانب، کوانٹم کمپیوٹنگ کے ممکنہ خطرات کے پیش نظر ادارہ جاتی سرمایہ کار بٹ کوائن کی اپنی ہولڈنگز فروخت کر رہے ہیں۔ یہ صورتحال کرپٹو کرنسی مارکیٹ کو درپیش نئے چیلنجز اور خطرات کی نشاندہی کرتی ہے، جو ٹیکنالوجی کی تیز رفتار ترقی کے ساتھ ساتھ مارکیٹ کی غیر یقینی صورتحال کو بھی بڑھا رہی ہے۔
مزید برآں، غیر مرکزی سوشل پلیٹ فارمز فارکاسٹر اور لینز کے حصول سے آن-چین سوشل میڈیا نیٹ ورکس کو درپیش مشکلات کا اندازہ ہوتا ہے۔ یہ حصولات بلاک چین کے ساتھ مربوط سوشل میڈیا کے شعبے میں ایک تبدیلی کی علامت ہیں، جہاں کمپنیاں پیچیدہ ٹیکنالوجی انضمام کے مسائل کو حل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔
مجموعی طور پر، امریکہ کی گرین لینڈ میں حکمت عملی، مالیاتی مارکیٹ میں بلاک چین کے بڑھتے ہوئے اثرات اور کرپٹو کرنسی کو درپیش ٹیکنالوجیکل خطرات نے عالمی مالیاتی منظرنامے کو ایک نئے دور میں لے جانے کی راہ ہموار کی ہے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance