امریکی اور ایرانی تناؤ کے پیش نظر نیوکلیئر مذاکرات سے قبل بٹ کوائن اور کرپٹو مارکیٹس پر دباؤ

زبان کا انتخاب

بین الاقوامی سیاسی کشیدگی میں اضافے کے باعث بٹ کوائن اور دیگر کرپٹو کرنسیاں مزید دباؤ کا شکار ہو رہی ہیں۔ امریکی اور ایرانی حکام کے درمیان نیوکلیئر مذاکرات کے آغاز سے قبل تناؤ بڑھنے کے باعث کرپٹو مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ تاجر اور سرمایہ کار اس صورت حال کو کرپٹو کرنسیوں کی قیمتوں میں ممکنہ غیر یقینی اور اتار چڑھاؤ کے لیے ایک محرک سمجھ رہے ہیں، تاہم اس موقع پر قیمتوں کی واضح سمت متعین کرنا مشکل ہے۔
کرپٹو کرنسیاں، خاص طور پر بٹ کوائن، عالمی مالیاتی منڈیوں میں ایک الگ اور کبھی کبھار غیر مستحکم سرمایہ کاری کے طور پر جانی جاتی ہیں، جہاں سیاسی اور اقتصادی خبریں ان کی قیمتوں پر گہرا اثر ڈالتی ہیں۔ ایران اور امریکہ کے درمیان نیوکلیئر مذاکرات کی صورتحال اس تناظر میں اہمیت اختیار کر گئی ہے کیونکہ اس سے خطے میں سیاسی استحکام اور عالمی تجارت پر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، جو کہ کرپٹو کرنسیوں کی مارکیٹ میں بھی موجودہ اور مستقبل کی قیمتوں پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔
کرپٹو مارکیٹ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس قسم کی جیوپولیٹیکل خبریں عموماً مارکیٹ میں غیر یقینی کی کیفیت پیدا کرتی ہیں جس کی وجہ سے سرمایہ کار زیادہ محتاط ہو جاتے ہیں۔ نتیجتاً، کرپٹو کرنسیوں کی قیمتوں میں تیزی یا گراوٹ دونوں ممکن ہیں، لیکن اس کا براہ راست اور مستقل رجحان بتانا مشکل ہے۔
موجودہ حالات میں، سرمایہ کاروں کو چاہیے کہ وہ سیاسی اور اقتصادی خبروں پر نظر رکھیں اور کرپٹو مارکیٹس میں سرمایہ کاری کرتے وقت احتیاط برتیں کیونکہ جیوپولیٹیکل کشیدگی کے باعث مارکیٹس میں غیر متوقع اتار چڑھاؤ دیکھنے کو مل سکتا ہے۔ مزید برآں، نیوکلیئر مذاکرات کا مثبت نتیجہ خطے میں سیاسی استحکام لا سکتا ہے جس سے عالمی مالیاتی مارکیٹوں اور کرپٹو کرنسیوں کو تقویت مل سکتی ہے۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk

بروقت خبروں کے لیے ہمارے سوشل چینل جوائن کیجیے

تازہ خبریں و تحاریر

تلاش