اورگن کے ایک وفاقی جج نے امریکہ کی امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (ICE) کو ریاست میں بغیر معقول وجہ کے گرفتاریاں کرنے سے روک دیا ہے۔ جج نے کہا کہ ICE کی کارروائیاں واضح اور غیر متنازعہ قوانین کی خلاف ورزی ہیں۔ یہ فیصلہ امریکہ میں امیگریشن نافذ کرنے کے طریقہ کار پر جاری مباحثے میں ایک اہم قانونی پیش رفت ہے۔
ICE، جو کہ امریکہ کی امیگریشن قوانین کے نفاذ کی ذمہ دار ایجنسی ہے، غیر قانونی تارکین وطن کی شناخت اور گرفتاری کے لیے مختلف طریقے استعمال کرتی ہے۔ مگر اس فیصلے کے بعد، ریاست اوریگن میں ICE کو گرفتاریاں کرنے کے لیے قانونی جواز فراہم کرنا ہوگا، ورنہ انہیں کارروائی سے روکا جائے گا۔ یہ اقدام غیر معینہ گرفتاریوں اور ممکنہ زیادتیوں کے خلاف ایک حفاظتی قدم تصور کیا جا رہا ہے۔
امیگریشن کے متعلق امریکی قوانین اور ان کے نفاذ کے حوالے سے مختلف ریاستوں میں الگ الگ پالیسیز اور عدالتوں کے فیصلے سامنے آتے رہتے ہیں۔ اوریگن کا یہ فیصلہ امیگریشن انفورسمنٹ کے طریقہ کار کو مزید سخت قانونی دائرے میں لانے کی کوشش ہے، تاکہ شہریوں کے بنیادی حقوق کی حفاظت یقینی بنائی جا سکے۔
آئندہ اس فیصلے کے اثرات ICE کی کارروائیوں پر پڑیں گے اور ممکن ہے کہ دوسرے علاقوں میں بھی ایسے ہی قانونی چیلنجز سامنے آئیں۔ تاہم، امیگریشن کے مسئلے پر قومی سطح پر قانون سازی اور پالیسی میں تبدیلیاں آنے تک اس قسم کے فیصلے ایک اہم سنگ میل سمجھے جائیں گے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance