رسل انویسٹمنٹس کے سینئر انویسٹمنٹ اسٹریٹجسٹ بیئچن لن نے بتایا ہے کہ 2026 کے ابتدائی دنوں میں متعدد اہم اقتصادی اور مالی خبروں کے باوجود امریکی معیشت اپنی مضبوطی برقرار رکھے ہوئے ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ معیشت “مستحکم ترقی” سے “ممکنہ طور پر دوبارہ تیز رفتار” کی طرف بڑھ رہی ہے، جس پر توجہ مرکوز ہے کہ آیا روزگار کے مواقع مزید موسمی اور سود کی شرح کے حساس شعبوں میں پھیلیں گے یا نہیں۔
بیئچن لن کے مطابق، اگرچہ لیبر مارکیٹ اب پہلے کی طرح زیادہ گرم نہیں ہے، مگر موجودہ صورتحال اس قدر مستحکم ہے کہ فیڈرل ریزرو کو اس سال صبر کا مظاہرہ کرنے کا موقع فراہم کر سکتی ہے۔ امریکی فیڈرل ریزرو نے گذشتہ برسوں میں سود کی شرحوں میں اضافہ کیا تھا تاکہ مہنگائی پر قابو پایا جا سکے، لیکن معیشت کی موجودہ حالت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ مزید سخت اقدامات کی ضرورت فی الحال کم ہو سکتی ہے۔
امریکی معیشت دنیا کی سب سے بڑی معیشت ہے اور اس کی صحت عالمی منڈیوں پر گہرا اثر ڈالتی ہے۔ مضبوط روزگار اور مستحکم ترقی عالمی سرمایہ کاری اور تجارتی مواقع کے لئے مثبت اشارے سمجھے جاتے ہیں۔ تاہم، ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ عالمی سیاسی اور اقتصادی غیر یقینی صورتحال، جیسے تجارتی پابندیاں اور جیوپولیٹیکل تنازعات، امریکی معیشت کے مستقبل پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔
موجودہ صورتحال میں، سرمایہ کار اور پالیسی ساز اس بات پر نظر رکھے ہوئے ہیں کہ آیا امریکی معیشت واقعی تیزی سے بڑھنے لگے گی یا اسے مزید چیلنجز کا سامنا کرنا پڑے گا۔ عمومی طور پر، 2026 کے آغاز میں امریکی معیشت کی صورتحال امید افزا محسوس ہوتی ہے، مگر عالمی اور داخلی عوامل کی پیچیدگیوں کی وجہ سے محتاط رویہ اپنانا ضروری ہے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance