امریکہ میں قائم غیر مرکزی مالیاتی (DeFi) ایجوکیشن فنڈ نے برطانیہ کی مالیاتی کنڈکٹ اتھارٹی (FCA) سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے تجویز کردہ کرپٹو کرنسی کے ضوابط میں غیر تحویل دار پروٹوکولز کے ڈویلپرز کو ثالث کے طور پر ریگولیٹ نہ کرے۔ غیر تحویل دار پروٹوکولز ایسے بلیک چین پر مبنی نظام ہیں جن میں صارفین اپنی رقم خود کنٹرول کرتے ہیں اور کسی مرکزی ادارے کی مداخلت نہیں ہوتی۔
ڈی فائی ایجوکیشن فنڈ کا موقف ہے کہ غیر تحویل دار پروٹوکولز کی نوعیت ہی ایسی ہے کہ انہیں روایتی ثالثی خدمات کے زمرے میں نہیں لایا جا سکتا، کیونکہ ان کے ڈویلپرز براہ راست صارفین کے فنڈز کے انتظام میں ملوث نہیں ہوتے۔ اس قسم کی ریگولیشنز سے ڈی فائی کی ترقی پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں اور اس کی انفرادی آزادی اور خود مختاری کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ مطالبہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب برطانیہ اپنی کرپٹو کرنسی مارکیٹ کو منظم کرنے کے لیے سخت قوانین نافذ کرنے پر غور کر رہا ہے تاکہ مالیاتی فراڈ اور منی لانڈرنگ کو روکا جا سکے۔ تاہم، ڈی فائی سیکٹر نے خبردار کیا ہے کہ سخت ضوابط اس انقلابی ٹیکنالوجی کی ترقی کو روکتے ہیں اور اس کے بنیادی اصولوں کے خلاف جا سکتے ہیں۔
غیر مرکزی مالیاتی نظام، جسے ڈی فائی کہا جاتا ہے، نے دنیا بھر میں مالیاتی خدمات کو زیادہ شفاف، قابل رسائی اور خود مختار بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ڈی فائی پلیٹ فارمز صارفین کو بغیر کسی روایتی بینکنگ ادارے کے براہ راست قرض، سرمایہ کاری، اور دیگر مالیاتی تعاملات کی سہولت فراہم کرتے ہیں۔
اگرچہ برطانیہ کا مقصد کرپٹو مارکیٹ کی حفاظت اور صارفین کے مفادات کا تحفظ ہے، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ ضوابط میں لچک اور ٹیکنالوجی کی فطرت کو سمجھنا ضروری ہے تاکہ یہ شعبہ مزید ترقی کر سکے اور عالمی مالیاتی نظام میں اپنی جگہ بنا سکے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk