امریکہ کے سفیر اینڈریو پوزڈر نے یورپی یونین کی جانب سے متعارف کرائے جانے والے نئے تجارتی قواعد پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور انہیں گزشتہ سال امریکہ اور یورپی یونین کے درمیان طے پانے والے تجارتی معاہدے کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ان قواعد کے اثرات پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ ضوابط نہ صرف معاہدے کی شرائط سے متصادم ہیں بلکہ اس کے روح کے بھی خلاف ہیں۔
یہ نئی تجارتی پالیسیز دونوں جانب کے تجارتی تعلقات پر منفی اثر ڈالنے کا خدشہ پیدا کر رہی ہیں، خاص طور پر اس وقت جب امریکہ اور یورپی یونین اپنی مشترکہ معاہدات کو برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تجارتی معاہدے عام طور پر دو طرفہ تجارتی سرگرمیوں کو آسان بنانے اور تجارتی رکاوٹوں کو کم کرنے کے لیے بنائے جاتے ہیں، تاہم نئی پالیسیاں ملکی سطح پر نافذ کیے جانے والے قوانین اور ضوابط میں تبدیلیوں کی وجہ سے پیچیدگیاں پیدا کر رہی ہیں۔
یورپی یونین نے حال ہی میں کچھ ایسے قواعد متعارف کروائے ہیں جن کا مقصد اپنے داخلی بازار کی حفاظت اور ماحولیاتی و سماجی معیارات کو بہتر بنانا ہے، لیکن اس کے نتیجے میں امریکہ نے اس بات کا خدشہ ظاہر کیا ہے کہ یہ قواعد غیر منصفانہ تجارتی رکاوٹیں بن سکتے ہیں جو دونوں کے درمیان تجارتی حجم کو متاثر کریں گے۔ اس صورتحال سے ظاہر ہوتا ہے کہ عالمی تجارتی تعلقات میں توازن قائم رکھنا ایک نازک عمل ہے، جہاں ہر فریق اپنی داخلی پالیسیاں اور بین الاقوامی معاہدات کے تقاضوں کو مدنظر رکھنا ہوتا ہے۔
آنے والے دنوں میں دونوں فریقوں کے درمیان مذاکرات کا امکان ہے تاکہ ان نئے قواعد کے اثرات کو کم کیا جا سکے اور تجارتی تعلقات کو مستحکم رکھا جا سکے۔ تاہم، اگر اس معاملے پر اتفاق نہ ہو پایا تو یہ دونوں اقتصادی بلاکس کے درمیان تجارتی روابط میں کشیدگی کا باعث بن سکتا ہے، جس کے اثرات عالمی معیشت پر بھی پڑ سکتے ہیں۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance