ترکی کے نائب صدر یلمز نے ہفتے کے روز اعلان کیا کہ ملک مہنگائی کو مزید کم کرنے کے لیے سخت مالیاتی پالیسی اور مالی نظم و ضبط کو برقرار رکھے گا۔ تازہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، جنوری میں ترکی کا صارف قیمت اشاریہ (CPI) ماہانہ بنیاد پر 4.84 فیصد بڑھا، جو نئے سال کی قیمتوں میں تبدیلیوں اور خوراک و غیر الکوحل مشروبات کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے توقعات سے زیادہ تھا۔ سالانہ مہنگائی کی شرح 30.65 فیصد تک کم ہو گئی ہے۔ یلمز نے کہا کہ مئی 2024 سے مہنگائی میں 45 فیصد پوائنٹس کی کمی کے باوجود یہ کمی ناکافی ہے اور حکومت صارفین کی قیمتیں مزید کم کرنے کے لیے کام کر رہی ہے۔
ترکی میں گزشتہ برسوں سے مہنگائی ایک سنگین مسئلہ رہی ہے، جس نے عوام کی قوت خرید پر منفی اثر ڈالا ہے۔ ملک نے کرپٹو کرنسیوں اور دیگر غیر روایتی مالیاتی ذرائع کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کے باوجود، روایتی مالیاتی پالیسیوں پر توجہ مرکوز رکھی ہے۔ سخت مالیاتی پالیسیاں، جن میں مرکزی بینک کی شرح سود میں اضافہ اور سرکاری اخراجات پر کنٹرول شامل ہیں، مہنگائی کو کم کرنے کی کوششوں کا حصہ ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ترکی کی حکومت نے مہنگائی پر قابو پانے کے لیے ٹھوس اقدامات کیے ہیں، لیکن عالمی معاشی دباؤ اور توانائی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ جیسے عوامل اب بھی معیشت کے لیے چیلنجز بنے ہوئے ہیں۔ اس لیے، مستقبل میں مالیاتی پالیسی میں لچک اور جامع حکمت عملی کی ضرورت ہوگی تاکہ مہنگائی کی شرح کو مزید کم کیا جا سکے اور اقتصادی استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔
ترکی کی معیشت میں استحکام کے لیے مالی پالیسیوں کا کردار اہم ہے، اور حکومت کی جانب سے سخت مالی نظم و ضبط جاری رکھنے کا فیصلہ اس عزم کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ مہنگائی کو قابو میں رکھنے اور عوام کی زندگی میں بہتری لانے کے لیے پرعزم ہے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance