امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واشنگٹن ڈی سی میں پوٹومیک دریا میں بڑے پیمانے پر سیوریج لیک کے بعد ہنگامی امداد کی منظوری دے دی ہے۔ یہ واقعہ میری لینڈ میں ایک دہائی پرانا سیوریج پائپ لائن پھٹنے کے باعث پیش آیا، جس کے نتیجے میں تقریباً 940 ملین لیٹر سے زائد غیر معالج شدہ سیوریج پانی میں شامل ہو گئی۔ پوٹومیک دریا واشنگٹن ڈی سی کے مغربی حصے سے گزرتا ہے اور یہ دارالحکومت کے لیے بنیادی پینے کے پانی کا ذریعہ ہے۔ اس واقعے کو امریکہ کی تاریخ میں سب سے بڑے سیوریج لیکز میں شمار کیا جا رہا ہے۔
واشنگٹن ڈی سی کی میئر میریل باؤزر نے فوری طور پر اس صورتحال پر ہنگامی حالت کا اعلان کیا اور صدر ٹرمپ سے وفاقی وسائل کی فراہمی کی درخواست کی تاکہ شہر سیوریج نظام کی خرابی کو سنبھال سکے۔ اس طرح کے بڑے سیوریج حادثات نہ صرف آبی آلودگی کا باعث بنتے ہیں بلکہ عوامی صحت کے لیے بھی سنگین خطرات پیدا کرتے ہیں، خاص طور پر اس علاقے میں جہاں پانی کا ذریعہ محدود ہو۔
یہ ہنگامی امداد واشنگٹن ڈی سی کی صفائی ستھرائی اور سیوریج نظام کی مرمت کے لیے اہم قدم ہے، جس سے مقامی انتظامیہ کو اس بحران سے نمٹنے میں مدد ملے گی۔ اس واقعے کے بعد پانی کی صفائی اور ماحولیاتی تحفظ کے حوالے سے سخت نگرانی اور اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے تاکہ مستقبل میں ایسے حادثات کی روک تھام کی جا سکے۔
امریکہ میں سیوریج اور پانی کی فراہمی کے بنیادی ڈھانچے کی بہتری ایک جاری مسئلہ ہے، خاص طور پر پرانی پائپ لائنز اور نظاموں کی جگہ نئے اور مؤثر نظام متعارف کرانا ضروری ہے تاکہ شہریوں کی صحت اور ماحولیاتی تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance