خزانہ نے روسی ’ایکسپلائٹ‘ بروکر کو امریکی سائبر ٹولز چوری کرنے پر پابندی عائد کر دی

زبان کا انتخاب

امریکی محکمہ خزانہ نے پہلی مرتبہ ’پروٹیکٹنگ امریکن انٹیلیکچوئل پراپرٹی ایکٹ‘ کے تحت روسی کمپنی پر پابندیاں عائد کی ہیں جس پر الزام ہے کہ وہ چوری شدہ امریکی سائبر ٹولز کی بروکریج کرتی ہے۔ یہ اقدام اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ سائبر سیکیورٹی کے شعبے میں استعمال ہونے والے جدید ٹیکنالوجیز اور ہتھیاروں کی غیر قانونی تجارت کو روکنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
چوری شدہ امریکی سائبر ٹولز ایسے کمپیوٹر پروگرامز اور ہیکنگ ٹولز ہوتے ہیں جو حکومت یا دفاعی اداروں کے محفوظ نیٹ ورکس کی حفاظت کے لیے تیار کیے جاتے ہیں، مگر جب یہ ٹولز غیر قانونی ہاتھوں میں آ جاتے ہیں تو انہیں سائبر حملوں میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ روسی بروکر کا کام ان ٹولز کی خرید و فروخت میں مڈل مین کا کردار ادا کرنا تھا، جس سے امریکی قومی سلامتی کو خطرہ لاحق ہو گیا تھا۔
’پروٹیکٹنگ امریکن انٹیلیکچوئل پراپرٹی ایکٹ‘ امریکی قانون کا ایک نیا حصہ ہے جو انٹیلیکچوئل پراپرٹی کی خلاف ورزیوں کو روکنے اور ان سے منسلک غیر قانونی کاروبار کو نشانہ بنانے کے لیے بنایا گیا ہے۔ اس قانون کے تحت اب امریکی حکومت چوری شدہ ٹیکنالوجی اور سائبر ہتھیاروں کی غیر قانونی تجارت میں ملوث افراد اور کمپنیوں کو پابندیوں کا سامنا کروا سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق، اس قسم کے اقدامات سے بین الاقوامی سائبر کرائم نیٹ ورکس کو کمزور کرنے میں مدد ملے گی، تاہم روسی حکام کی جانب سے اس پر ردعمل بھی متوقع ہے۔ اس پابندی کے نتیجے میں روسی بروکر کی مالی اور تجارتی سرگرمیاں محدود ہو سکتی ہیں اور اسے بین الاقوامی مالی نظام سے الگ کیا جا سکتا ہے۔
یہ قدم اس تناظر میں بھی اہم ہے کہ دنیا بھر میں سائبر حملوں کی تعداد اور ان کی پیچیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے، جس کی وجہ سے سائبر سیکیورٹی کو مضبوط بنانے کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ ہو گئی ہے۔ امریکی حکومت کی کوشش ہے کہ وہ چوری شدہ سائبر ٹولز کی غیر قانونی تجارت کو روک کر اپنی دفاعی سلامتی کو بہتر بنا سکے۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: decrypt

بروقت خبروں کے لیے ہمارے سوشل چینل جوائن کیجیے