کوانٹم کمپیوٹنگ کی تیزی سے ترقی کے باعث تقریباً سات ملین بٹ کوائنز، جن میں کرپٹو کرنسی کے خالق ساتوشی ناکاموٹو کے ایک ملین سکے بھی شامل ہیں، ممکنہ طور پر سیکورٹی کے سنگین خطرے میں آ گئے ہیں۔ یہ بٹ کوائنز بلاک چین ٹیکنالوجی کی بنیاد پر محفوظ سمجھے جاتے ہیں، لیکن کوانٹم کمپیوٹرز کی طاقت روایتی کرپٹوگرافی کو کمزور کر سکتی ہے، جس سے ہیکرز کے لیے ان کرپٹو کرنسیز تک رسائی ممکن ہو سکتی ہے۔
بٹ کوائن، جو دنیا کی سب سے معروف اور قدیم کرپٹو کرنسی ہے، اپنی سیکیورٹی کے لیے پیچیدہ ریاضیاتی الگوردمز پر منحصر ہے۔ تاہم، کوانٹم کمپیوٹرز کی صلاحیت ہے کہ وہ ان الگوردمز کو تیزی سے حل کر سکیں، جس سے صارفین کی نجی چابیاں اور ٹرانزیکشنز خطرے میں پڑ سکتی ہیں۔ ساتوشی ناکاموٹو کے سکے، جو مارکیٹ میں گردش نہیں کر رہے، خاص طور پر اہم سمجھے جاتے ہیں کیونکہ یہ بٹ کوائن کی ابتدائی مائننگ سے حاصل کیے گئے تھے اور ان کی حفاظت سے کرپٹو کرنسی کی مجموعی ساکھ جڑی ہوئی ہے۔
کرپٹو کرنسی کی دنیا میں اس خطرے نے ماہرین کو خبردار کر دیا ہے کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو بڑے پیمانے پر مالی نقصان ہو سکتا ہے۔ اس کے پیش نظر، مختلف بلاک چین پروجیکٹس اور کرپٹو ایکسچینجز کوانٹم-مزاحمتی الگوردمز کی تحقیق اور ترقی میں مصروف ہیں تاکہ مستقبل میں اس خطرے کو کم کیا جا سکے۔
اگرچہ کوانٹم کمپیوٹنگ ابھی مکمل طور پر عملی سطح پر نہیں آئی، مگر اس کی پیش رفت نے کرپٹو کرنسیز کے مستقبل کے لیے ایک نیا چیلنج کھڑا کر دیا ہے۔ سرمایہ کاروں اور مارکیٹ کے دیگر شراکت داروں کے لیے یہ فیصلہ کرنا ضروری ہو گا کہ آیا وہ اپنے اثاثے منجمد کریں یا اس نئے خطرے سے نمٹنے کے لیے متبادل حفاظتی تدابیر اپنائیں۔
یہ صورتحال نہ صرف بٹ کوائن بلکہ پوری کرپٹو کرنسی انڈسٹری کے لیے ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتی ہے، جس میں ٹیکنالوجی کی ترقی اور سیکورٹی کے درمیان توازن قائم رکھنا کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk