اسٹیبل کوائنز کی مارکیٹ میں حالیہ کشمکش کا اصل مسئلہ ان کرپٹو کرنسیوں کی بنیاد پر نہیں بلکہ ڈپازٹس اور ان پر ادائیگی کے نظام کے گرد گھوم رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کا تعلق اس بات سے ہے کہ کون اپنی رقم کہاں جمع کروا رہا ہے اور اسے کس طرح منافع یا سود کی صورت میں ادائیگی ہو رہی ہے۔ اسٹیبل کوائنز، جو عموماً امریکی ڈالر یا دیگر مستحکم کرنسیوں سے منسلک ہوتے ہیں، سرمایہ کاروں کو کرپٹو مارکیٹ میں قیمت کے اتار چڑھاؤ سے تحفظ فراہم کرتے ہیں، مگر اب ان کی اصل توجہ منافع کی تقسیم پر مرکوز ہو گئی ہے۔
اسٹیبل کوائنز کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کے ساتھ، مختلف پلیٹ فارمز اور پروٹوکولز نے صارفین کو زیادہ منافع دینے کی کوشش کی ہے تاکہ وہ اپنی رقم ان کے پاس جمع کروائیں۔ اس عمل نے مارکیٹ میں مقابلہ بڑھا دیا ہے اور سرمایہ کاروں کے لیے فیصلہ مشکل کر دیا ہے کہ وہ کہاں سرمایہ کاری کریں۔ اس کے علاوہ، یہ منافع کی جنگ مالیاتی استحکام اور مارکیٹ کی شفافیت کے لیے چیلنجز بھی پیدا کر رہی ہے۔
کرپٹو کرنسی کی دنیا میں اسٹیبل کوائنز کا کردار بہت اہم ہے کیونکہ یہ روایتی مالیاتی نظام اور ڈیجیٹل کرنسی کے درمیان پل کا کام دیتے ہیں۔ تاہم، جب منافع کی تقسیم کا معاملہ آتا ہے تو یہ صرف اسٹیبل کوائنز کی بات نہیں رہتی، بلکہ اس کا تعلق اس بات سے ہوتا ہے کہ کس پلیٹ فارم یا بینک کو صارفین کی جمع پونجی پر زیادہ منافع دینا چاہیے۔ اس سے نہ صرف مارکیٹ میں توازن متاثر ہوتا ہے بلکہ سرمایہ کاروں کی ترجیحات اور اعتماد پر بھی اثر پڑتا ہے۔
مستقبل میں، اگر یہ منافع کی جنگ اسی طرح جاری رہی تو ممکن ہے کہ مارکیٹ میں غیر مستحکم صورتحال پیدا ہو اور کچھ پلیٹ فارمز کے لیے خطرہ بھی بن جائے۔ سرمایہ کاروں کو چاہیے کہ وہ محتاط رہیں اور صرف زیادہ منافع کی بنیاد پر فیصلے نہ کریں بلکہ مالی استحکام اور شفافیت کو بھی مدنظر رکھیں۔ اسٹیبل کوائن کی مارکیٹ کی ترقی اور اس کے اثرات پر نظر رکھنا اب پہلے سے زیادہ ضروری ہو گیا ہے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk