ٹیتر، جو کہ ایک مشہور اسٹیبل کوائن ہے، کے سونے کے ذخائر 17 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے ہیں جبکہ اس کا خالص منافع 2025 کے دوران 10 ارب ڈالر سے بھی آگے بڑھ گیا ہے۔ ٹیتر کی یو ایس ڈی ٹی (USDT) ٹوکن کی فراہمی میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے، جو اس کی مارکیٹ میں بڑھتی ہوئی مقبولیت اور استعمال کی عکاسی کرتا ہے۔
ٹیتر نہ صرف اسٹیبل کوائن کے شعبے میں ایک اہم کھلاڑی ہے بلکہ یہ دنیا کے بڑے امریکی سرکاری قرضہ داروں میں بھی شامل ہے، جس کے پاس تقریباً 141 ارب ڈالر کی امریکی ٹریژری بانڈز کی ملکیت ہے۔ اس کے سونے اور امریکی حکومتی بانڈز میں سرمایہ کاری سے یہ کمپنی اپنی مالی استحکام کو مضبوط بناتی ہے اور صارفین کو ایک محفوظ اور معتبر کرپٹو کرنسی تجربہ فراہم کرتی ہے۔
ٹیتر، جو اپنی قیمت کو امریکی ڈالر کے برابر رکھنے کے لیے جانا جاتا ہے، اس کی اسٹیبل کوائن USDT دنیا بھر میں کرپٹو کرنسی کے لین دین میں ایک اہم ذریعہ بن چکی ہے۔ اس کے ذخائر میں سونے کی بڑی مقدار اور امریکی حکومت کے بانڈز کی ملکیت اس بات کی دلیل ہے کہ کمپنی نے اپنی مالی پوزیشن کو مستحکم کرنے کے لیے متنوع اور محفوظ اثاثوں میں سرمایہ کاری کی ہے۔
مستقبل میں، ٹیتر کی مالی کارکردگی اور اس کے سونے کے ذخائر میں اضافے سے یہ توقع کی جا رہی ہے کہ یہ اسٹیبل کوائن مارکیٹ میں اپنی جگہ اور بھی مضبوط کرے گا۔ تاہم، کرپٹو مارکیٹ کی عمومی غیر یقینی صورتحال اور عالمی مالیاتی حالات کے اثرات ٹیتر کی کارکردگی پر بھی اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ صارفین اور سرمایہ کاروں کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس طرح کی سرمایہ کاری کے خطرات کو بھی مدنظر رکھیں۔
ٹیتر کی یہ پیش رفت اس بات کا اشارہ ہے کہ اسٹیبل کوائنز کی دنیا میں سرمایہ کاری اور مالی استحکام کے لیے متنوع اثاثوں کا ہونا کتنا اہم ہے۔ اس سے نہ صرف سرمایہ کاروں کو تحفظ ملتا ہے بلکہ کرپٹو کرنسیوں کی عالمی قبولیت میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk