ٹیثر اور سرکل جنوبی کوریا میں اپنی سرگرمیاں بڑھا رہے ہیں

زبان کا انتخاب

ٹیثر اور سرکل نے جنوبی کوریا میں اپنی موجودگی کو بڑھانے کے لیے نئی بھرتیاں شروع کر دی ہیں، جس کا مقصد مقامی مارکیٹ میں اپنے آپریشنز کو مضبوط بنانا ہے۔ یہ اقدام اس وقت سامنے آیا ہے جب دونوں کمپنیوں نے حالیہ عرصے میں عملے کی تبدیلیاں کی ہیں۔ سرکل نے گزشتہ سال اپنے سی ای او کے جنوبی کوریا کے دورے کے بعد سے اس خطے میں کاروباری سرگرمیوں کو بڑھانے پر خصوصی توجہ دی ہے۔
جنوبی کوریا میں ڈیجیٹل کرنسی اور اسٹیبل کوائنز کے حوالے سے قوانین میں تبدیلیوں کی توقع کی جا رہی ہے، خاص طور پر ڈیجیٹل ایسٹ بیسک ایکٹ کے نفاذ کے بعد۔ اس قانون کے تحت، غیر ملکی اسٹیبل کوائن جاری کرنے والی کمپنیوں کو مقامی برانچز قائم کرنا لازمی ہو سکتا ہے تاکہ وہ مارکیٹ میں اپنے ٹوکنز کی تقسیم کو بہتر طریقے سے منظم کر سکیں۔ اس طرح کی قانونی تبدیلیوں کا مقصد کرپٹو کرنسی مارکیٹ کو شفاف اور محفوظ بنانا ہے۔
ٹیثر اور سرکل دونوں عالمی سطح پر معروف اسٹیبل کوائن فراہم کنندگان ہیں، جن کا بنیادی مقصد کرپٹو کرنسی کی قیمت کو مستحکم رکھنا اور صارفین کو ایک محفوظ ڈیجیٹل کرنسی تجربہ فراہم کرنا ہے۔ ان کمپنیوں کی توسیع جنوبی کوریا جیسے اہم مارکیٹ میں ان کی پوزیشن کو مضبوط کر سکتی ہے، جہاں کرپٹو کرنسیز کی مقبولیت بڑھ رہی ہے۔
اگرچہ نئی قانون سازی سے مارکیٹ میں نظم و ضبط آئے گا، مگر اس کے ساتھ ہی یہ کمپنیوں کے لیے اضافی آپریٹنگ لاگت اور پیچیدگیاں بھی پیدا کر سکتی ہے۔ اس صورتحال میں، مقامی برانچز کی ضرورت کمپنیوں کو مقامی قواعد و ضوابط کے تحت کام کرنے پر مجبور کرے گی، جو کہ ایک نیا چیلنج ہوسکتا ہے۔
ٹیثر اور سرکل کی جانب سے جنوبی کوریا میں اپنی سرگرمیاں بڑھانے کا یہ اقدام ایک وسیع تر رجحان کی نشاندہی کرتا ہے کہ کرپٹو کرنسی کی دنیا میں ریگولیٹری فریم ورک کے تحت کاروبار کو منظم کرنے کی ضرورت بڑھ رہی ہے، خاص طور پر ایسے ممالک میں جہاں کرپٹو مارکیٹ تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance

بروقت خبروں کے لیے ہمارے سوشل چینل جوائن کیجیے