فنانشل ٹیکنالوجی کے شعبے میں نمایاں کردار ادا کرنے والی کمپنی اسٹرائپ نے اپنے 2025 کے سالانہ خط میں اہم پیش رفت کا اعلان کیا ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق، اگرچہ بٹ کوائن کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی، اس کے باوجود اسٹیبل کوائنز کی ادائیگیوں کا حجم تقریباً دوگنا ہو کر 400 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے، جس میں 60 فیصد سے زائد ادائیگیاں کاروبار سے کاروبار (B2B) کے شعبے میں ہوئیں۔ اسٹرائپ کی جانب سے اسٹیبل کوائن پلیٹ فارم بریج کے حصول نے لین دین کے حجم میں چار گنا سے زائد اضافہ کیا ہے۔ کمپنی اسٹیبل کوائنز کو مستقبل کے کرنسی بہاؤ کے اہم محرک کے طور پر دیکھتے ہوئے مزید حصول اور اپنے نئے پلیٹ فارم ٹیمپو کے ذریعے اس کی قبولیت بڑھانے پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔
اس کے علاوہ، اسٹرائپ نے 2025 کو ایجنٹک کامرس یعنی مصنوعی ذہانت کی مدد سے چلنے والی تجارت کے حقیقی دنیا میں تجربات اور ترقی کا آغاز قرار دیا ہے۔ اوپن اے آئی کے ساتھ تعاون میں اسٹرائپ ایک ایسا اوپن اسٹینڈرڈ تیار کر رہا ہے جسے ایجنٹک کامرس پروٹوکول (ACP) کہا جاتا ہے۔ یہ پروٹوکول AI پلیٹ فارمز اور تاجروں کے درمیان مشترکہ تکنیکی زبان قائم کرنے کا مقصد رکھتا ہے تاکہ پروگراماتی تجارت کے بہاؤ اور فوری چیک آؤٹ کی سہولت فراہم کی جا سکے۔ اسٹرائپ کی جانب سے متعارف کرایا جانے والا ایجنٹک کامرس سوئٹ بنیادی انفراسٹرکچر کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جس کے اثرات آنے والی نسلوں تک محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ اس کامیابی کے لیے یونیورسل انٹرآپریبلٹی اور اوپن ڈیزائن کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا گیا ہے۔
اسٹرائپ کی یہ پیش رفت فنانشل ٹیکنالوجی کے میدان میں نہ صرف اسٹیبل کوائنز کی بڑھتی ہوئی قبولیت کا مظہر ہے بلکہ AI کے ذریعے تجارتی عمل کو آسان بنانے اور تیز کرنے کی جانب ایک اہم قدم بھی ہے۔ مستقبل میں، ان اقدامات سے مالیاتی لین دین میں شفافیت اور رفتار دونوں میں اضافہ متوقع ہے، جبکہ مارکیٹ میں مقابلہ بھی بڑھ سکتا ہے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance