اسٹریٹیجی انکارپوریٹڈ نے اپنی بٹ کوائن خریداریوں کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے اپنی سویں سرمایہ کاری مکمل کی ہے اور تقریباً 39.8 ملین ڈالر کی لاگت سے 592 بٹ کوائن حاصل کیے ہیں۔ یہ کمپنی 2020 میں بٹ کوائن کو اپنی بنیادی ریزرو اثاثہ کے طور پر اپنانے کے بعد سے مسلسل خریداری کر رہی ہے۔ اس حالیہ خریداری کی اوسط قیمت فی بٹ کوائن تقریباً 67,286 ڈالر رہی۔
کمپنی نے اس تازہ ترین سرمایہ کاری کے لیے اپنے کلاس اے عام اسٹاک کے 297,940 حصص فروخت کیے، جس سے تقریباً 39.7 ملین ڈالر کی آمدنی ہوئی۔ اسٹریٹیجی اب کل 717,722 بٹ کوائن کی مالک ہے جنہیں اس نے مجموعی طور پر تقریباً 54.56 ارب ڈالر کی قیمت میں حاصل کیا ہے، جس سے یہ دنیا کی سب سے بڑی کارپوریٹ بٹ کوائن خزانہ بن گئی ہے۔
اس کمپنی کے پاس مستقبل میں مزید اسٹاک جاری کرنے کے لیے 37.4 ارب ڈالر کے سیکیورٹیز دستیاب ہیں جن میں 7.8 ارب ڈالر کا MSTR اسٹاک اور 20.3 ارب ڈالر کا STRK اسٹاک شامل ہے۔ کمپنی اپنی بٹ کوائن ہولڈنگز اور مارکیٹ کی قیمتوں کی تفصیلات ایک عوامی ڈیش بورڈ پر فراہم کرتی ہے تاکہ شفافیت اور ریگولیٹری تقاضوں کی پاسداری کی جا سکے۔
حال ہی میں بٹ کوائن کی قیمت میں کمی دیکھی گئی ہے، جو گزشتہ ہفتے کے دوران تقریباً 68,000 ڈالر سے گر کر 66,000 ڈالر کے قریب آگئی ہے۔ اس کے نتیجے میں اسٹریٹیجی کے حصص کی قیمت میں بھی کمی واقع ہوئی ہے، جو بٹ کوائن کی قیمت کے ساتھ گہرے تعلق کی علامت ہے۔
کمپنی کے ایگزیکٹو چیئرمین مائیکل سیلر نے اس خریداری کا اشارہ دیتے ہوئے اسے “دی اورنج سینچری” قرار دیا، جو اسٹریٹیجی کی مسلسل بٹ کوائن سرمایہ کاری کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا ہے کہ کمپنی اپنے بٹ کوائن ذخائر فروخت کرنے کا ارادہ نہیں رکھتی اور مارکیٹ کی صورتحال کے باوجود خریداری کا سلسلہ جاری رکھے گی۔
بٹ کوائن کی مارکیٹ میں اس قسم کی مسلسل بڑی سرمایہ کاری اس کی قبولیت میں اضافے اور ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کی دلچسپی کو ظاہر کرتی ہے، تاہم قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے باعث سرمایہ کاری میں خطرات بھی موجود ہیں جو سرمایہ کاروں کے لیے چیلنجز پیدا کر سکتے ہیں۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: bitcoinmagazine