اسٹریٹیجی سب سے زیادہ شارٹ سیل کی جانے والی امریکی اسٹاک بن گئی لیکن اس کا مطلب صرف مندی نہیں ہے

زبان کا انتخاب

مائیکرو سٹریٹیجی (MSTR) کی مارکیٹ کیپ کا تقریباً 14 فیصد حصہ شارٹ سیل کیا گیا ہے، جو اسے امریکہ کی سب سے زیادہ شارٹ کی جانے والی کمپنیوں میں شامل کرتا ہے۔ شارٹ سیلنگ کا مطلب ہوتا ہے کہ سرمایہ کار اسٹاک کی قیمت گرنے کی توقع رکھتے ہوئے اسے بیچتے ہیں، تاہم یہاں کی صورتحال قدرے مختلف ہے۔ ماہرین کے مطابق اس بڑی مقدار میں شارٹ پوزیشنز کی ایک بڑی وجہ “بیسس ٹریڈز” ہو سکتی ہے، جو کہ خالص مندی کے بجائے ایک پیچیدہ مالی حکمت عملی ہے۔
مائیکرو سٹریٹیجی ایک معروف امریکی کمپنی ہے جو بزنس انٹیلی جنس اور ڈیٹا اینالیٹکس کی خدمات فراہم کرتی ہے۔ حالیہ برسوں میں اس کمپنی نے بٹ کوائن میں بھاری سرمایہ کاری کی ہے، جس کی وجہ سے اس کے اسٹاک کی قیمت مارکیٹ کے عمومی رجحانات سے کافی متاثر ہوتی رہی ہے۔ اس طرح کی سرمایہ کاری کے باعث، اسٹاک میں شارٹ پوزیشنز کا بڑھنا اس بات کی علامت ہو سکتا ہے کہ سرمایہ کار کمپنی کے کرپٹو اثاثوں کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ سے فائدہ اٹھانے کے لیے مختلف مالی حربے استعمال کر رہے ہیں۔
بیسس ٹریڈز ایک مالی حکمت عملی ہے جس میں سرمایہ کار مختلف مارکیٹوں میں قیمتوں کے فرق سے فائدہ اٹھاتے ہیں، اور یہ ہمیشہ مندی کی نشاندہی نہیں کرتی۔ اس کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ شارٹ پوزیشن رکھنے والے سرمایہ کار درحقیقت کمپنی کے اسٹاک کی قیمت میں عارضی کمی سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں یا اپنے کرپٹو اثاثوں کی حفاظت کر رہے ہیں۔
مائیکرو سٹریٹیجی کے اسٹاک پر یہ زیادہ شارٹ پوزیشنز سرمایہ کاروں کے درمیان مخلوط جذبات کی عکاسی کرتی ہیں، جہاں کچھ افراد اپنی سرمایہ کاریوں کو محفوظ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں جبکہ دیگر ممکنہ مندی کی پیش گوئی کر رہے ہیں۔ مستقبل میں، اگر بٹ کوائن اور دیگر کرپٹو کرنسیوں کی قیمتوں میں استحکام آیا تو اس سے کمپنی کے اسٹاک کی قدر پر مثبت اثرات پڑ سکتے ہیں، ورنہ قیمت میں اتار چڑھاؤ مزید مالی حکمت عملیوں کو جنم دے سکتا ہے۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk

بروقت خبروں کے لیے ہمارے سوشل چینل جوائن کیجیے