ڈیجیٹل ڈالرز کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کے باعث روایتی بینکوں کی جمع پونجی میں کمی کا خطرہ بڑھ گیا ہے، خاص طور پر امریکی علاقائی بینکوں کے لیے۔ اسٹینڈرڈ چارٹرڈ نے خبردار کیا ہے کہ اسٹیبل کوائنز کی مارکیٹ میں تیزی سے پھیلاؤ کی وجہ سے تقریباً ۵۰۰ ارب ڈالر کی رقم روایتی بینکوں کے ذخائر سے منتقل ہو رہی ہے، جو بینکنگ سیکٹر کے لیے ایک اہم خطرہ بن گیا ہے۔
اسٹیبل کوائنز ایسے ڈیجیٹل اثاثے ہوتے ہیں جن کی قدر عام طور پر کسی مستحکم کرنسی جیسے امریکی ڈالر سے منسلک ہوتی ہے، اور یہ کرپٹو کرنسی مارکیٹ میں ایک پل کا کام دیتے ہیں۔ ان کی مدد سے صارفین تیزی اور کم لاگت میں مالیاتی لین دین کر سکتے ہیں، جس کی وجہ سے روایتی بینکوں کی خدمات کی طلب کم ہو رہی ہے۔ اس رجحان نے خاص طور پر چھوٹے اور درمیانے درجے کے علاقائی بینکوں کو متاثر کیا ہے، جو اپنی جمع پونجی کھونے کا سامنا کر رہے ہیں۔
مزید برآں، مارکیٹ ڈھانچے سے متعلق قوانین کی منظوری میں تاخیر بھی اس خطرے کو بڑھا رہی ہے، کیونکہ مناسب ضابطہ کاری نہ ہونے کی وجہ سے اسٹیبل کوائنز کے استعمال میں بے ضابطگیوں کا امکان ہے۔ مالیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر جلد از جلد اس شعبے کی نگرانی اور قواعد وضوابط کا نفاذ نہ کیا گیا تو یہ صورتحال بینکنگ نظام کی سالمیت پر منفی اثر ڈال سکتی ہے۔
اسٹیبل کوائنز کی مارکیٹ میں اضافہ اور روایتی بینکوں کی جمع پونجی میں کمی کے مابین یہ کشمکش مستقبل میں مالیاتی نظام میں تبدیلیوں کی علامت ہو سکتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی، بینکوں کو اپنی سروسز کو ڈیجیٹل دور کے مطابق ڈھالنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ صارفین کی توجہ برقرار رکھ سکیں اور مالی خطرات سے بچ سکیں۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk