اسٹینڈرڈ چارٹرڈ بینک کے تجزیے کے مطابق، اگلے چند برسوں میں اسٹیبل کوائنز کے ذریعے امریکی ٹریژری بلز کی خریداری میں نمایاں اضافہ ہوگا، جو 2028 تک تقریباً 1 ٹریلین ڈالر تک پہنچ سکتا ہے۔ اس اضافی طلب کی وجہ سے امریکی حکومت کے طویل مدتی بانڈز کی نیلامی میں کمی کے امکانات بڑھ گئے ہیں، خاص طور پر 30 سالہ بانڈز کی نیلامی پر اثر پڑ سکتا ہے۔
ٹریژری بلز امریکی حکومت کی جانب سے جاری کردہ مختصر مدتی قرضہ جاتی دستاویزات ہیں جو سرمایہ کاروں کے لئے محفوظ سرمایہ کاری کا ذریعہ سمجھی جاتی ہیں۔ اسٹیبل کوائنز، جو بنیادی طور پر کرپٹو کرنسیز کی ایک قسم ہیں اور جن کی قیمت امریکی ڈالر یا دیگر مالیاتی اثاثوں سے منسلک ہوتی ہے، اب سرمایہ کاری کے ایک اہم ذریعہ بن رہی ہیں۔ ان ڈیجیٹل کرنسیوں کی بڑھتی ہوئی مقبولیت اور سرمایہ کاری کے نئے طریقوں کی بدولت، سرمایہ کار زیادہ محفوظ اور کم خطرے والی اثاثہ جات کی تلاش میں امریکی ٹریژری بلز کی طرف راغب ہو رہے ہیں۔
اسٹیبل کوائنز کی مارکیٹ کی نمو نے مالیاتی دنیا میں سرمایہ کاری کے رجحانات کو تبدیل کر دیا ہے، جہاں روایتی بینکنگ اور مالیاتی ادارے بھی ڈیجیٹل اثاثوں کی طرف مائل ہو رہے ہیں۔ اس سے نہ صرف امریکی خزانے کو قرض حاصل کرنے میں سہولت ہو گی بلکہ یہ عالمی مالیاتی نظام میں بھی مثبت اثرات مرتب کر سکتا ہے۔
تاہم، اس اضافی طلب کے نتیجے میں 30 سالہ بانڈ کی نیلامی میں کمی کا امکان ہے، جو کہ سرمایہ کاروں اور مالیاتی حکمت عملی بنانے والوں کے لئے ایک نیا چیلنج ثابت ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ، اسٹیبل کوائنز کی ریگولیٹری صورتحال اور عالمی مالیاتی پالیسیوں میں ممکنہ تبدیلیاں بھی مستقبل میں اس رجحان پر اثر انداز ہو سکتی ہیں۔
مجموعی طور پر، اسٹینڈرڈ چارٹرڈ کے تجزیے سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسٹیبل کوائنز مالیاتی مارکیٹ میں ایک اہم کردار ادا کریں گی، خاص طور پر امریکی خزانے کے بلز کی خریداری میں، جو عالمی معیشت کے لئے بھی اہم اشارہ ہے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: decrypt