ڈیووس فورم میں اسٹیبل کوائنز کو عالمی ادائیگی کے نظام میں انقلابی تبدیلی لانے والی مالیاتی ٹیکنالوجی کے طور پر سراہا گیا، تاہم اس کے ساتھ کچھ خطرات بھی منسلک ہیں۔ سرکل کے سی ای او جیرمی ایلئیر نے بتایا کہ ادائیگی کے لیے استعمال ہونے والے اسٹیبل کوائنز کو ریگولیٹری فریم ورک کے تحت نقدی کے اوزار کے طور پر درجہ دیا گیا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ انہیں سود کی ادائیگی کے لیے موزوں نہیں سمجھا جاتا۔ اس بات پر زور دیا گیا کہ اسٹیبل کوائنز کی یہ خاصیت ان کے ڈیزائن کا بنیادی اصول ہے۔
ایلئیر نے “نیو فزکس آف منی” کا تصور پیش کرتے ہوئے کہا کہ اسٹیبل کوائنز سرمایہ کے بہاؤ کو زیادہ مؤثر بنا سکتے ہیں اور معیشتی سرگرمیوں کو برقرار رکھنے کے لیے درکار مالیاتی بنیاد کو کم کر سکتے ہیں۔ اس نظریے کے مطابق، اسٹیبل کوائنز کی مدد سے مالیاتی نقل و حمل میں تیزی اور شفافیت آ سکتی ہے، جو عالمی مالیاتی نظام کی کارکردگی کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوگی۔
مزید برآں، ایلئیر نے آئندہ تین سے پانچ سالوں میں معاشی عمل میں مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے کردار کی پیش گوئی کی، جو مالیاتی آپریشنز کو مزید خودکار اور مؤثر بنا سکتی ہے۔ اسٹیبل کوائنز کا بڑھتا ہوا استعمال روایتی بینکنگ نظام میں نئے مواقع پیدا کر سکتا ہے، لیکن ساتھ ہی ریگولیٹری نگرانی اور مالیاتی استحکام کے حوالے سے چیلنجز بھی درپیش ہیں۔
اسٹیبل کوائنز ایسی کرپٹو کرنسیاں ہیں جن کی ویلیو عام طور پر کسی مستحکم اثاثے جیسے امریکی ڈالر سے منسلک ہوتی ہے، جس کا مقصد کرپٹو کرنسیوں کی قیمت میں اتار چڑھاؤ کو کم کرنا ہے۔ یہ مالیاتی ٹیکنالوجی عالمی سطح پر ادائیگیوں، رقوم کی منتقلی اور ڈیجیٹل معیشت کے لیے اہم کردار ادا کر رہی ہے۔
مجموعی طور پر، ڈیووس فورم میں اسٹیبل کوائنز کی مالیاتی نظام میں ممکنہ تبدیلیوں پر تبادلہ خیال نے اس بات کی نشاندہی کی کہ مستقبل میں یہ ٹیکنالوجی مالیاتی خدمات کو زیادہ لچکدار اور شفاف بنانے میں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہے، بشرطیکہ اس کے ساتھ منسلک خطرات کو مناسب طریقے سے قابو میں رکھا جائے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance