اسٹیبل کوائنز کی تیزی سے بڑھتی ہوئی مقبولیت امریکی بینکنگ نظام کے لیے ایک سنجیدہ چیلنج بن گئی ہے۔ اسٹینڈرڈ چارٹرڈ کے تجزیہ کاروں کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2028 تک تقریباً آدھا ٹریلین ڈالر بینکوں سے اسٹیبل کوائنز کی طرف منتقل ہو سکتا ہے، جس سے علاقائی بینکوں کی بنیادی آمدنی کے ذرائع کو شدید خطرہ لاحق ہو جائے گا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ روایتی بینکنگ سیکٹر کو نہ صرف مسابقت کا سامنا ہے بلکہ ان کی مالیاتی پوزیشن پر بھی منفی اثر پڑ سکتا ہے۔
اسٹیبل کوائنز ایک قسم کی کرپٹو کرنسی ہیں جن کی قدر عموماً کسی مستحکم اثاثے جیسے امریکی ڈالر سے منسلک ہوتی ہے، جس سے انہیں قیمت میں اتار چڑھاؤ سے نسبتاً محفوظ سمجھا جاتا ہے۔ حالیہ برسوں میں، اسٹیبل کوائنز نے مالیاتی لین دین اور ڈیجیٹل سرمایہ کاری میں اہم کردار ادا کرنا شروع کر دیا ہے، خاص طور پر جب روایتی بینکنگ خدمات میں کچھ کمی محسوس کی گئی ہے۔
روایتی بینکوں کی آمدنی کا بڑا حصہ قرضوں پر سود سے آتا ہے، اور اگر صارفین اپنی جائداد بینکوں سے نکال کر اسٹیبل کوائنز میں منتقل کریں تو بینکوں کی یہ آمدنی متاثر ہو سکتی ہے۔ علاوہ ازیں، اس طرح کی منتقلی سے مالیاتی نظام میں استحکام کے مسائل بھی پیدا ہو سکتے ہیں کیونکہ اسٹیبل کوائنز پر موجودہ قوانین اور نگرانی اتنی سخت نہیں جتنی کہ بینکوں پر ہوتی ہے۔
اسٹیبل کوائنز کے بڑھتے ہوئے استعمال سے حکومت اور مالیاتی ریگولیٹرز کی توجہ بھی اس جانب مرکوز ہو گئی ہے تاکہ ایک متوازن اور محفوظ مالیاتی ماحول کو یقینی بنایا جا سکے۔ مستقبل میں، بینکوں کو اپنی خدمات میں جدت اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کو اپنانے کی ضرورت ہوگی تاکہ وہ اس نئے مالیاتی منظرنامے میں اپنی اہمیت برقرار رکھ سکیں۔
یہ تبدیلیاں امریکی مالیاتی شعبے میں بڑی تبدیلیوں کا پیش خیمہ ہو سکتی ہیں، اور اس سلسلے میں حکومتی اور بینکنگ اداروں کی حکمت عملیوں کا کردار کلیدی ہوگا۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: decrypt