نئی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ مخصوص نوعیت کی مصنوعی ذہانت عام ماڈلز کی نسبت ڈی فائی (Decentralized Finance) میں ہونے والے نقصانات کی شناخت میں بہت زیادہ مؤثر ثابت ہوئی ہے۔ یہ جدید ٹیکنالوجی ڈی فائی پلیٹ فارمز میں موجود سیکیورٹی خلا اور ممکنہ حملوں کی نشاندہی میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
ڈی فائی مالیاتی نظام کی ایک جدید شکل ہے جو مرکزی بینکوں یا مالی اداروں کے بغیر بلاک چین ٹیکنالوجی کی مدد سے مالی خدمات فراہم کرتا ہے۔ اس نظام کی مقبولیت میں اضافہ ہوا ہے لیکن اس کے ساتھ ہی سیکیورٹی کی پیچیدگیاں اور نقصانات کے واقعات بھی بڑھ گئے ہیں، جن میں کئی بار ہیکرز لاکھوں ڈالرز کی چوری کر لیتے ہیں۔
مخصوص مصنوعی ذہانت کی اس تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی روایتی عمومی ماڈلز کے مقابلے میں زیادہ درستگی کے ساتھ ڈی فائی پلیٹ فارمز کے کمزوریوں کی نشاندہی کرتی ہے۔ اس سے نہ صرف نقصانات کی روک تھام ممکن ہو سکتی ہے بلکہ سرمایہ کاروں اور صارفین کا اعتماد بھی بحال ہو گا۔
یہ پیش رفت ڈی فائی سیکٹر کے لئے خوش آئند ہے کیونکہ اس شعبے میں سیکیورٹی کی بہتری کے بغیر اس کی ترقی محدود رہ سکتی ہے۔ آئندہ کے مراحل میں اس قسم کی ٹیکنالوجی کو مزید بہتر بنا کر ڈی فائی پروجیکٹس میں شامل کرنا ضروری ہوگا تاکہ مالیاتی نظام کو زیادہ محفوظ اور شفاف بنایا جا سکے۔
تاہم، چونکہ ڈی فائی پلیٹ فارمز کی نوعیت غیر مرکزی اور پیچیدہ ہوتی ہے، اس لئے مصنوعی ذہانت کی مدد سے سیکیورٹی کو مکمل طور پر یقینی بنانا ایک چیلنج رہ سکتا ہے۔ اس لئے ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹیکنالوجی کے ساتھ ساتھ قانون سازی اور صارفین کی تعلیم بھی ضروری ہے تاکہ ڈی فائی کا مستقبل محفوظ اور مستحکم ہو۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk