SpaceX Falcon 9 راکٹ کے ملبے سے فضا میں لیتھیئم کی سطح میں اضافہ

زبان کا انتخاب

جرمن محققین نے ایک نئی تحقیق میں انکشاف کیا ہے کہ تقریباً ایک سال قبل SpaceX کے Falcon 9 راکٹ کے ملبے نے زمین کی اعلیٰ فضا میں لیتھیئم کے ایٹموں کی مقدار میں نمایاں اضافہ کیا۔ یہ تحقیق Communications Earth & Environment نامی سائنس جریدے میں شائع ہوئی ہے اور اس کے مطابق یہ پہلا موقع ہے کہ سائنسدانوں نے خلا سے واپس آنے والے خلائی ملبے کی وجہ سے ماحولیاتی آلودگی کا براہِ راست اندازہ لگایا ہے۔
SpaceX کی Falcon 9 راکٹ خلائی مشنوں کے لیے استعمال ہوتی ہے اور اس کا ملبہ اکثر زمین کی فضا میں واپس آتا ہے جہاں یہ جل کر بکھر جاتا ہے۔ خلائی تحقیق اور سیاروں کی دریافت میں تیزی کے باعث خلا میں موجود ملبے کی مقدار بھی بڑھ رہی ہے، جو ماحولیاتی نظام پر نئے چیلنجز پیدا کر رہا ہے۔ لیتھیئم ایک ایسا دھات ہے جو بیٹریوں اور دیگر ٹیکنالوجیز میں اہمیت رکھتا ہے، لیکن اس کا غیر متوقع فضائی اضافہ ماحولیاتی اثرات کا باعث بن سکتا ہے۔
یہ تحقیق خلا سے واپس آنے والے ملبے کے ماحولیاتی اثرات کو سمجھنے میں ایک اہم پیش رفت ہے کیونکہ اب تک خلائی ملبے کی وجہ سے پیدا ہونے والی آلودگی کے بارے میں محدود معلومات موجود تھیں۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ مستقبل میں خلائی فضلے کی بڑھتی ہوئی تعداد کو مدنظر رکھتے ہوئے اس کے ماحولیاتی اثرات پر مزید گہرائی سے تحقیق کی ضرورت ہوگی تاکہ زمینی اور فضائی ماحول کی حفاظت ممکن ہو سکے۔
حالیہ برسوں میں خلائی مشنوں کی تعداد میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے جس کی وجہ سے خلائی ملبہ بھی بڑھتا جا رہا ہے، جو نہ صرف خلائی جہازوں بلکہ زمین کے ماحول کے لیے بھی خطرہ بن سکتا ہے۔ اس حوالے سے بین الاقوامی ادارے خلائی ملبے کی نگرانی اور اس کے اثرات کو کم کرنے کے لیے مختلف اقدامات کر رہے ہیں تاکہ مستقبل میں اس سے پیدا ہونے والے ماحولیاتی اور سلامتی کے مسائل کو محدود کیا جا سکے۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance

بروقت خبروں کے لیے ہمارے سوشل چینل جوائن کیجیے

تازہ خبریں و تحاریر

تلاش