ویٹنام میں اسپیس ایکس کو اسٹار لنک انٹرنیٹ سروس کے آغاز کی منظوری

زبان کا انتخاب

ویٹنام کی حکومت نے امریکی خلائی کمپنی اسپیس ایکس کو ملک میں اسٹار لنک سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروس شروع کرنے کی اجازت دے دی ہے۔ وزارت سائنس و ٹیکنالوجی نے فروری میں اسپیس ایکس کی مقامی ذیلی کمپنی کو لائسنس جاری کیا ہے جس کے تحت یہ کمپنی دونوں قسم کی سیٹلائٹ انٹرنیٹ خدمات فراہم کر سکے گی، یعنی فکسڈ اور موبائل انٹرنیٹ۔ اس کے علاوہ، کمپنی کو ریڈیو فریکوئنسیز اور دیگر متعلقہ آلات کے استعمال کی بھی اجازت دی گئی ہے جو اس سروس کی فراہمی کے لیے ضروری ہیں۔
اسٹار لنک سروس اسپیس ایکس کی طرف سے چلائی جانے والی ایک سیٹلائٹ کنیکٹیویٹی پروجیکٹ ہے جس کا مقصد دنیا کے دور دراز اور انٹرنیٹ کی کم دستیابی والے علاقوں میں تیز رفتار و مستحکم انٹرنیٹ فراہم کرنا ہے۔ یہ نظام زمین کے مدار میں لاکھوں چھوٹے سیٹلائٹس کا جال بچھا کر کام کرتا ہے، جو روایتی زمینی انٹرنیٹ انفراسٹرکچر کی محدودیتوں کو دور کرنے میں مدد دیتا ہے۔ اب تک اسٹار لنک نے مختلف ممالک میں اپنی خدمات شروع کی ہیں جہاں انٹرنیٹ کی دستیابی یا معیار بہتر بنانے کی ضرورت تھی۔
ویٹنام میں اسپیس ایکس کو اس سروس کے آغاز کی منظوری دیے جانے سے ملک کے انٹرنیٹ انفراسٹرکچر کو نئی تکنیکی سہولیات حاصل ہوں گی، خاص طور پر دیہی اور دور دراز علاقوں میں جہاں انٹرنیٹ کی رفتار اور معیار کمزور ہے۔ اس اقدام سے نہ صرف صارفین کو بہتر انٹرنیٹ خدمات میسر آئیں گی بلکہ ملک کی ڈیجیٹل معیشت کو بھی فروغ ملنے کی توقع ہے۔
تاہم، سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروسز کے اضافے سے ریگولیٹری چیلنجز اور حفاظتی مسائل بھی سامنے آ سکتے ہیں، جن پر حکومتی اداروں اور کمپنیوں کو مل کر قابو پانا ہوگا۔ اس کے علاوہ، بین الاقوامی خلائی سپیس میں بڑھتی ہوئی سیٹلائٹس کی تعداد خلائی آلودگی کے مسائل کو بھی بڑھا سکتی ہے، جس پر عالمی سطح پر غور و فکر جاری ہے۔
ویٹنام میں اسٹار لنک کی منظوری کے بعد مستقبل میں مزید جدید انٹرنیٹ سروسز کے لیے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں اور یہ ملک کی ٹیکنالوجی کے شعبے میں ایک اہم قدم تصور کیا جا رہا ہے۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance

بروقت خبروں کے لیے ہمارے سوشل چینل جوائن کیجیے