اسپیس کوائن اور کیسٹ کے درمیان غیر مرکزی سیٹلائٹ انٹرنیٹ منصوبے پر تعاون

زبان کا انتخاب

اسپیس کوائن نے حال ہی میں کیسٹ کے اسکول آف الیکٹریکل انجینئرنگ کے ساتھ ایک ٹیکنالوجی سیمینار کا انعقاد کیا جس کا مقصد غیر مرکزی سیٹلائٹ انٹرنیٹ منصوبے اور اس کے نفاذ کی حکمت عملیوں پر تبادلہ خیال کرنا تھا۔ اس تقریب میں اسپیس کوائن کے بانی تائیلیم اوہ، سیمسنگ کے سابق سینئر انجینئرز، اور کیسٹ کے محققین نے شرکت کی۔ سیمینار کا مقصد اسپیس کوائن کے وژن کو آگے بڑھانا اور SpaceNetwork ٹیکنالوجی کی ترقی کو فروغ دینا تھا۔
اسپیس کوائن ایک جدید بلاک چین پروجیکٹ ہے جو خلائی ٹیکنالوجی اور انٹرنیٹ کے غیر مرکزی نظام کو ملانے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس کا ہدف دنیا بھر میں انٹرنیٹ کی رسائی کو بہتر بنانا اور اسے زیادہ محفوظ اور قابل اعتماد بنانا ہے، خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں روایتی انٹرنیٹ سروسز محدود یا غیر دستیاب ہیں۔ کیسٹ، جنوبی کوریا کا ایک معروف تحقیقی ادارہ، الیکٹریکل انجینئرنگ کے شعبے میں جدید تحقیق کے لیے مشہور ہے، اور اس کا تعاون اس منصوبے کی تحقیقی اور تکنیکی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہو رہا ہے۔
یہ تعاون سیٹلائٹ ٹیکنالوجی اور بلاک چین کو ایک ساتھ لا کر انٹرنیٹ کی فراہمی کے نئے ماڈل کو فروغ دینے کی ایک کوشش ہے۔ غیر مرکزی نیٹ ورکنگ کی بدولت صارفین کو براہ راست سیٹلائٹ سے جڑنے کی سہولت ملے گی، جس سے درمیانی افراد کی ضرورت کم ہو جائے گی اور نیٹ ورک کی سلامتی میں اضافہ ہوگا۔ اس طرح کے منصوبے موجودہ انٹرنیٹ انفراسٹرکچر میں بہتری کے لیے اہم سمجھے جاتے ہیں، کیونکہ وہ ڈیٹا کے تبادلے میں شفافیت اور خودمختاری کو فروغ دیتے ہیں۔
آئندہ میں، اس طرح کے منصوبوں کے کامیاب نفاذ سے دنیا بھر میں انٹرنیٹ کی رسائی میں اضافہ ہو سکتا ہے، خاص طور پر دور دراز اور پسماندہ علاقوں میں۔ تاہم، سیٹلائٹ نیٹ ورک کی تعمیر اور اس کی سیکیورٹی چیلنجز بھی موجود ہیں جن پر قابو پانا ضروری ہوگا تاکہ صارفین کو موثر اور محفوظ خدمات فراہم کی جا سکیں۔ اس تعاون سے متعلقہ فریقین کی کوششوں سے توقع کی جا رہی ہے کہ وہ ان تکنیکی مشکلات کو حل کرتے ہوئے ایک قابل اعتماد اور جدید نیٹ ورک قائم کریں گے۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance

بروقت خبروں کے لیے ہمارے سوشل چینل جوائن کیجیے

تازہ خبریں و تحاریر

تلاش