جنوبی کوریا کی حالیہ معاشی کارکردگی میں ٹیکنالوجی شعبے کی نمایاں ترقی نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ ماہر معاشیات کیلون لام نے بتایا کہ جنوبی کوریا کے پرفارمنس مینیجمنٹ انڈیکس (PMI) کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک کی معاشی ترقی خاص طور پر ٹیکنالوجی کی بنیاد پر ہے۔ ملک کی صنعتی پیداوار میں اضافہ اور نئی آرڈرز کی تیز رفتار نمو بیرونی طلب کی وجہ سے ممکن ہوئی ہے۔
خاص طور پر سیمی کنڈکٹر سیکٹر کی ترقی نے جنوبی کوریا کی معیشت کو مضبوطی دی ہے، جہاں مصنوعی ذہانت میں سرمایہ کاری اور ڈیٹا سینٹرز کی بڑھتی ہوئی مانگ نے نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ چپ انڈسٹری میں موجود مثبت رجحان قلیل مدتی میں بدلے کا امکان نہیں رکھتا، جو ملک کی معیشت کے لیے ایک خوش آئند بات ہے۔
تاہم، غیر چپ شعبوں میں مشکلات کا سامنا ہے، خاص طور پر پیٹروکیمیکل اور فولاد کی صنعتوں کو عالمی سطح پر سخت مقابلے اور زائد فراہمی کا سامنا ہے۔ مزید برآں، کوریائی وون کی قدر میں کمی نے درآمدی لاگتوں کو بڑھا دیا ہے، جس کی وجہ سے مینوفیکچررز کو اضافی اخراجات برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔ تاہم، یہ اضافی لاگت مکمل طور پر صارفین تک منتقل نہیں کی گئی ہے، جس سے منافع پر اثر پڑ رہا ہے۔
جنوبی کوریا کی معیشت میں ٹیکنالوجی کا بڑھتا ہوا کردار ایک مضبوط بنیاد فراہم کر رہا ہے، لیکن دیگر صنعتی شعبے عالمی چیلنجز کے باعث کمزور دکھائی دیتے ہیں۔ آئندہ وقت میں عالمی اقتصادی حالات اور کرنسی کی قدر میں اتار چڑھاؤ معیشت پر اثر انداز ہو سکتے ہیں، جس کے لیے حکومتی اور صنعتی پالیسیاں اہم ہوں گی۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance