ساؤتھ ڈیراکوٹا کی ریاست میں ایک قانون ساز نے ریاستی سرمایہ کاری فنڈز کے ایک حصے کو بٹ کوائن میں مختص کرنے کے لیے دوبارہ کوشش کی ہے۔ ریاستی نمائندہ لوگن مان ہارٹ نے ایک بل پیش کیا ہے جس کا مقصد ریاست کے مجموعی سرمایہ کاری فنڈز کے تقریباً 10 فیصد حصے کو کرپٹو کرنسی میں لگانا ہے۔ یہ اقدام بٹ کوائن کو ایک مستحکم سرمایہ کاری کے طور پر قبول کرنے اور اس کے ذریعے ریاستی مالیاتی وسائل کو متنوع بنانے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
بٹ کوائن، جو کہ ایک ڈیجیٹل کرپٹو کرنسی ہے، نے پچھلی دہائی میں مالیاتی دنیا میں اہم مقام حاصل کیا ہے۔ کئی بڑے ادارے اور بعض ممالک نے اسے اپنی سرمایہ کاری کے ایک حصے کے طور پر اپنانا شروع کیا ہے، حالانکہ اس کے اتار چڑھاؤ اور ریگولیٹری خدشات بھی موجود ہیں۔ ساؤتھ ڈیراکوٹا کی کوشش اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ امریکہ کی کچھ ریاستیں کرپٹو کرنسی کو اپنی مالیاتی حکمت عملیوں میں شامل کرنے کے لیے دلچسپی رکھتی ہیں۔
پہلی کوشش کے بعد، جسے مختلف وجوہات کی بنا پر روک دیا گیا تھا، یہ نئی پیش رفت قانون سازوں اور مالیاتی ماہرین کے درمیان اس موضوع پر بحث کو دوبارہ زندہ کر سکتی ہے۔ اس بل کی منظوری کی صورت میں، ریاستی فنڈز کی کرپٹو کرنسی میں سرمایہ کاری سے ممکنہ منافع کے ساتھ ساتھ کرپٹو مارکیٹ کی غیر یقینی صورتحال کے خطرات بھی وابستہ ہوں گے۔
اگرچہ بٹ کوائن میں سرمایہ کاری کے فوائد اور نقصانات پر مختلف آراء پائی جاتی ہیں، یہ اقدام ریاستی مالیاتی حکمت عملی میں جدت اور تکنیکی ترقی کے ساتھ ہم آہنگی کی کوشش کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ آئندہ دنوں میں اس بل کے حوالے سے سیاسی اور عوامی ردعمل اہم ہوگا، جو کہ اس کی کامیابی یا ناکامی کا تعین کرے گا۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: decrypt