چاندی کی قیمت میں 35 فیصد کمی نے بٹ کوائن کو پیچھے چھوڑ دیا، کرپٹو مارکیٹ میں غیر معمولی لیکویڈیشن

زبان کا انتخاب

گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کرپٹو کرنسی مارکیٹس میں ٹوکنائزڈ چاندی کے فیوچرز نے سب سے زیادہ لیکویڈیشن ریکارڈ کی ہے، جو بٹ کوائن اور ایتھریم کو پیچھے چھوڑ گیا ہے۔ اس دوران دھاتوں کی قیمتوں میں تیز کمی اور کرپٹو مارکیٹس پر بڑھتے ہوئے لوریج والے کاروبار کی وجہ سے سرمایہ کاروں کو بڑے نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔
چاندی کی مارکیٹ میں یہ غیر معمولی اتار چڑھاؤ اس وقت سامنے آیا جب عالمی دھاتوں کی قیمتوں میں اچانک کمی واقع ہوئی۔ ٹوکنائزڈ چاندی فیوچرز، جو کہ روایتی دھاتوں کی قیمتوں کو ڈیجیٹل فارمیٹ میں پیش کرتے ہیں، کرپٹو ایکسچینجز پر مقبول ہو رہے ہیں کیونکہ یہ سرمایہ کاروں کو دھاتوں میں سرمایہ کاری کے مواقع فراہم کرتے ہیں بغیر اصل دھات خریدے۔ تاہم، اس طرح کی مارکیٹ میں لوریج کی زیادتی خطرات کو بڑھا دیتی ہے، جس کا نتیجہ لیکویڈیشن کی صورت میں نکلتا ہے۔
بٹ کوائن اور ایتھریم مارکیٹ کی عام رہنما کرپٹو کرنسیاں ہیں، لیکن اس بار چاندی کے فیوچرز نے ان کی نسبت زیادہ لیکویڈیشن کا سامنا کیا، جو کرپٹو مارکیٹ میں دھاتوں کی بڑھتی ہوئی اہمیت اور سرمایہ کاروں کی متنوع دلچسپی کو ظاہر کرتا ہے۔ اس صورتحال نے سرمایہ کاروں کو خبردار کیا ہے کہ لوریج کے استعمال سے ممکنہ نقصان بڑھ سکتا ہے، خاص طور پر ایسے اوقات میں جب مارکیٹ میں اچانک تبدیلیاں آتی ہیں۔
کرپٹو مارکیٹس میں لیکویڈیشن کا مطلب ہوتا ہے کہ سرمایہ کاروں کی پوزیشنز جب ان کے نقصان کی حد سے تجاوز کر جاتی ہیں تو خودکار طور پر بند ہو جاتی ہیں، جس سے مارکیٹ میں مزید اتار چڑھاؤ آ سکتا ہے۔ اس بار چاندی کی قیمتوں میں کمی نے خاص طور پر ان سرمایہ کاروں کو متاثر کیا جو زیادہ لوریج کے ساتھ مارکیٹ میں داخل ہوئے تھے۔
مستقبل میں، سرمایہ کاروں کو دھاتوں کے فیوچرز اور دیگر کرپٹو اثاثوں میں محتاط رہنے کی ضرورت ہوگی تاکہ اچانک مارکیٹ کی تبدیلیوں سے بچا جا سکے۔ دھاتوں کی قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کے ساتھ ساتھ کرپٹو مارکیٹس کی پیچیدگی سرمایہ کاری کے خطرات کو بڑھاتی ہے، جس کے پیش نظر مناسب حکمت عملی اپنانا ضروری ہے۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk

بروقت خبروں کے لیے ہمارے سوشل چینل جوائن کیجیے