پال ایٹکنز نے کہا ہے کہ وال اسٹریٹ کی نگرانی کرنے والی امریکی سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن (ایس ای سی) کے پاس پہلے ہی کچھ پیشن گوئی مارکیٹس کو ریگولیٹ کرنے کے لیے کافی اختیار موجود ہے۔ پیشن گوئی مارکیٹس ایسے آن لائن پلیٹ فارمز ہوتے ہیں جہاں صارفین مستقبل کی کسی خاص واقعے کے نتائج پر شرط لگا سکتے ہیں، جیسے سیاسی انتخابات، مالیاتی مارکیٹ کی حرکات یا دیگر معاشرتی واقعات۔
یہ مارکیٹس حالیہ برسوں میں تیزی سے مقبول ہوئیں، خاص طور پر کرپٹو کرنسیز اور بلاک چین ٹیکنالوجی کے ساتھ جڑی ہوئی پیش گوئی مارکیٹس کی وجہ سے، جنہوں نے مالیاتی سیکٹر میں نئے مواقع پیدا کیے ہیں۔ تاہم، ان پلیٹ فارمز کی قانونی حیثیت اور ریگولیشن کا دائرہ ابھی واضح نہیں، جس کی وجہ سے مالیاتی نگرانی کی ایجنسیوں کی جانب سے ان پر نظر رکھنے کی ضرورت بڑھ گئی ہے۔
ایس ای سی کے چیئرمین کی رائے اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ کمیشن ان مارکیٹس پر اپنی نگرانی بڑھانے پر غور کر رہا ہے تاکہ سرمایہ کاروں کے حقوق کا تحفظ کیا جاسکے اور مالیاتی سہولتوں میں شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔ ایسا کرنے سے مارکیٹ میں دھوکہ دہی اور غیر قانونی سرگرمیوں کو روکنے میں مدد ملے گی، جو اس قسم کی مارکیٹس کے ساتھ منسلک خطرات میں شامل ہیں۔
اگرچہ پیشن گوئی مارکیٹس کو قانونی طور پر ریگولیٹ کرنا ایک پیچیدہ عمل ہوسکتا ہے، مگر ایس ای سی کی جانب سے اس دائرہ اختیار کو واضح کرنے کی کوشش، مالیاتی مارکیٹ میں اعتماد بڑھانے اور صارفین کی حفاظت کے لیے ایک اہم قدم ہے۔ مستقبل میں، ممکن ہے کہ ان پلیٹ فارمز پر سخت قواعد و ضوابط لاگو کیے جائیں تاکہ مالیاتی استحکام اور شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: decrypt