رئیل ورلڈ اثاثہ جات کے اجرا کرنے والے سرمایہ کے قیام کو لیکویڈیٹی پر فوقیت دیتے ہیں، بریکن کے سروے کے مطابق

زبان کا انتخاب

رئیل ورلڈ اثاثہ جات (RWA) کی ٹوکنائزیشن کے حوالے سے بریکن کے حالیہ سروے کی رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ 69.2 فیصد اجرا کرنے والے فی الوقت متحرک ہیں اور 84.6 فیصد نے اس عمل میں ریگولیٹری رکاوٹوں کو ایک اہم عنصر قرار دیا ہے۔ یہ اعداد و شمار اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ اثاثہ جات کی ڈیجیٹل نمائندگی میں سرمایہ کے قیام کو لیکویڈیٹی کی فراہمی سے زیادہ اہمیت دی جا رہی ہے۔
رئیل ورلڈ اثاثہ جات کی ٹوکنائزیشن ایک جدید مالی رجحان ہے جس کے ذریعے روایتی اثاثہ جات جیسے جائیداد، بانڈز، یا دیگر سرمایہ کاری کی اشیاء کو بلاک چین ٹیکنالوجی کے ذریعے ڈیجیٹل ٹوکنز میں تبدیل کیا جاتا ہے۔ اس عمل کا مقصد اثاثہ جات کی رسائی، شفافیت اور تجارت کو آسان بنانا ہے۔ تاہم، اس میں ریگولیٹری خدشات اور قانونی پیچیدگیوں نے ٹوکنائزیشن کے نفاذ کو متاثر کیا ہے۔
بریکن کا سروے ظاہر کرتا ہے کہ اکثر اجرا کرنے والے یہ چاہتے ہیں کہ وہ پہلے سرمایہ جمع کریں اور اپنے اثاثہ جات کو مستحکم کریں، جبکہ لیکویڈیٹی یعنی فوری نقدی میں تبدیل ہونے کی صلاحیت کو نسبتاً کم اہم سمجھتے ہیں۔ اس رجحان کی وجہ سے مارکیٹ میں اثاثہ جات کی قدر میں استحکام اور سرمایہ کاری کے مواقع میں اضافہ ہو سکتا ہے، مگر اس کے ساتھ ریگولیٹری چیلنجز بھی برقرار رہیں گے۔
رئیل ورلڈ اثاثہ جات کی ٹوکنائزیشن عالمی مالیاتی نظام میں شمولیت کو بڑھانے کا ایک اہم ذریعہ بن سکتی ہے، خاص طور پر ان سرمایہ کاروں کے لیے جو روایتی مالیاتی نظام سے باہر ہیں۔ تاہم، قانونی فریم ورک اور ریگولیٹری پالیسیوں کی وضاحت اور اصلاح اس کے کامیاب نفاذ کے لیے ناگزیر ہے۔
مستقبل میں، اگر ریگولیٹری رکاوٹوں کو کم کیا گیا تو یہ رجحان مزید تیزی سے فروغ پا سکتا ہے اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا کر سکتا ہے۔ اس کے برعکس، قوانین کی سختی اور غیر یقینی صورتحال سے مارکیٹ کی نمو محدود ہو سکتی ہے۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk

بروقت خبروں کے لیے ہمارے سوشل چینل جوائن کیجیے

تازہ خبریں و تحاریر

تلاش